نورالقرآن نمبر 2 — Page 408
روحانی خزائن جلد ۹ باتوں میں دورنگی پائی جاتی تھی ۔ ۴۰۶ نور القرآن نمبر ۲ اور ہمارے سید و مولیٰ جناب مقدس نبوی کی تعلیم کا ایک اعلیٰ نمونہ اس جگہ ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ جس تو ریہ کو آپ کا یسوع شیر مادر کی طرح تمام عمر استعمال کرتا رہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو مگر کیا کہیں اور کیا لکھیں کہ آپ کے یسوع صاحب اس قدر التزام سچائی کا نہ کر سکے جو شخص خدائی کا دعوی کرے وہ تو شیر ہبر کی طرح دنیا میں آنا چاہیے تھا نہ کہ ساری عمر تو ریہ اختیار کر کے اور تمام باتیں کذب کے ہمرنگ کہہ کر یہ ثابت کر دیوے کہ وہ ان افراد کا ملہ میں سے نہیں ہے جو مرنے سے لا پرواہ ہو کر دشمنوں کے مقابل پر اپنے تئیں ظاہر کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر پورا بھروسہ رکھتے ہیں ۔ اور کسی مقام میں بزدلی نہیں دکھلاتے مجھے تو ان باتوں کو یا د کر کے رونا آتا ہے کہ اگر کوئی ایسے ضعیف القلب یسوع کی اس ضعف حالت اور توریہ پر جو ایک قسم کا کذب ہے اعتراض کرے تو ہم کیا جواب دیں ۔ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین جنگ احد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے میں محمد ہوں ۔ میں نبی اللہ ہوں ۔ میں ابن عبد المطلب ہوں اور پھر دوسری طرف دیکھتا ہوں کہ آپ کا لیسوع کانپ کانپ کر اپنے شاگردوں کو یہ خلاف واقعہ تعلیم دیتا ہے کہ کسی سے نہ کہنا کہ