نورالقرآن نمبر 2 — Page 407
روحانی خزائن جلد ؟ ۴۰۵ نور القرآن نمبر ۲ اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لئے یا کسی اور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالوں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور (19) نا دان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں اور غور کرنے کے بعد معلوم ہو کہ جو کچھ متکلم نے کہا ہے وہ جھوٹ نہیں بلکہ حق محض ہے اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو اور نہ دل نے ایک ذرہ بھی کذب کی طرف میل کیا ہو جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لئے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کے لئے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اور طرف جھکا دینے کی نیت سے تو ریہ کا جواز پایا جاتا ہے مگر با وصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ تو ریہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے اور بہر حال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگر چہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے مگر افسوس کہ یہ تو ریہ آپ کے یسوع صاحب کے کلام میں بہت ہی پایا جاتا ہے تمام انجیلیں اس سے بھری پڑی ہیں اس لئے ہمیں ماننا پڑتا ہے کہ اگر تو ریہ کذب ہے تو یسوع سے زیادہ دنیا میں کوئی بھی کذاب نہیں گذرا ۔ یسوع صاحب کا یہ قول کہ میں خدا کی ہیکل کو ڈھا سکتا ہوں اور پھر میں تین دن میں اسے بنا سکتا ہوں یہی وہ قول ہے جس کو تو ریہ کہتے ہیں ۔ اور ایسا ہی وہ قول کہ ایک گھر کا مالک تھا جس نے انگورستان لگایا یہ سب توریہ کی قسمیں ہیں اور یسوع صاحب کے کلام میں اس کے بہت سے نمونے ہیں کیونکہ وہ ہمیشہ چبا چبا کر باتیں کرتا تھا اور اس کی