نورالقرآن نمبر 2

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 581

نورالقرآن نمبر 2 — Page 406

روحانی خزائن جلد ۹ ۴۰۴ نور القرآن نمبر ۲ کرنا ان پر واجب تھا اور وہ ایمان بھی دکھلا نہ سکے جو مکہ میں مصائب کے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے دکھلایا تھا۔ امید کہ آپ اس سے منکر نہیں ہوں گے اور اگر خیانت کے طور پر منکر بھی ہو گئے تو وہ تمام مقام ہم دکھلا دیں گے بالفعل صرف نمونہ کے طور پر ثبوت میں لکھا گیا ۔ اور پھر آپ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ ان قتلت و احرقت یعنی سچ کو مت چھوڑ اگر چه تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے ۔ پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور پیچ مت چھوڑ واگر چہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگر چہ تم جلائے جاؤ اور قتل کئے جاؤ مگر سچ ہی بولو۔ تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہوگی کیونکہ ہم لوگ اُسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ ہاں بعض احادیث میں تو ریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پا وے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو در حقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہے اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو تو ریہ سے بھی پر ہیز کریں