نورالقرآن نمبر 2 — Page 385
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۸۳ نور القرآن نمبر ۲ اور اس گورنمنٹ سے اقبال میں کچھ کم نہ تھا وہ کہتا ہے کہ اگر مجھے یہ سعادت حاصل ہو سکتی کہ میں اس عظیم الشان نبی کی صحبت میں رہ سکتا تو میں آپ کے پاؤں دھویا کرتا سو جو قیصر روم نے کہا۔ یقینا یہ سعادت مند گورنمنٹ بھی وہی بات کہتی ۔ بلکہ اس سے بڑھ کر کہتی اگر حضرت مسیح کی نسبت اس وقت کے کسی چھوٹے سے جاگیردار نے بھی یہ کلمہ کہا ہو جو قیصر روم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہا۔ جو آج تک نہایت صحیح تاریخ اور احادیث صحیحہ میں لکھا ہوا موجود ہے تو ہم آپ کو ابھی ہزار روپیہ نقد بطور انعام کے دیں گے اگر آپ ثابت کر سکیں ۔ اور اگر آپ یہ ثبوت نہ دے سکیں تو اس ذلیل زندگی سے آپ کے لئے مرنا بہتر ہے کیونکہ ہم نے ثابت کر دیا کہ قیصر روم اس گورنمنٹ عالیہ کا ہم مرتبہ تھا بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں اس کی طاقت کے برابر اور کوئی طاقت دنیا میں موجود نہ تھی ہماری گورنمنٹ تو اس درجہ تک نہیں پہنچی پھر جبکہ قیصر با وجود اس شہنشاہی کے آہ کھینچ کر یہ بات کہتا ہے کہ اگر میں اس عالی جناب کی خدمت میں پہنچ سکتا تو آنجناب مقدس کے پاؤں دھویا کرتا ۔ تو کیا یہ گورنمنٹ اس سے کم حصہ لیتی ۔ میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ضرور یہ گورنمنٹ بھی ایسے شہنشاہ کے پاؤں میں گرنا اپنا فخر سمجھتی کیونکہ یہ گورنمنٹ اس آسمانی بادشاہ سے منکر نہیں جس کی طاقتوں کے آگے انسان اک مرے ہوئے کیڑے کے برابر نہیں اور ہم نے اک معتبر ذریعہ سے سنا ہے کہ ہماری قیصرہ ہند ادام الله اقبالها در حقیقت اسلام سے محبت رکھتی ہے اور اس کے دل میں 1 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت تعظیم ہے چنانچہ ایک ذی علم مسلمان سے وہ اردو