نورالقرآن نمبر 2 — Page 386
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۸۴ نور القرآن نمبر ۲ بھی پڑھتی ہے ۔ ان کی ایسی تعریفوں کو سن کر میں نے اسلام کی طرف ایک خاص دعوت سے حضرت ملکہ معظمہ کو مخاطب کیا تھا ۔ پس یہ نہایت غلطی ہے کہ آپ لوگ اس مراتب شناس گورنمنٹ کو بھی ایک سفلہ اور کمینہ پادری کی طرح خیال کرتے ہیں ۔ جن کو خدا ملک اور دولت دیتا ہے ۔ ان کو زیر کی اور عقل بھی دیتا ہے ۔ ہاں اگر یہ سوال پیش ہو کہ اگر کوئی ایسا شخص اس گورنمنٹ کے ملک میں یہ غوغا مچاتا کہ میں خدا ہوں یا خدا کا بیٹا ہوں تو گورنمنٹ اس کا تدارک کیا کرتی ؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ یہ مہربان گورنمنٹ اس کو کسی ڈاکٹر کے سپرد کرتی تا اس کے دماغ کی اصلاح ہو یا اس بڑے گھر میں محفوظ رکھتی جس میں بمقام لاہور اس قسم کے بہت لوگ جمع ہیں ۔ جب ہم حضرت مسیح اور جناب خاتم الانبياء صلى الله عليه وسلم کا اس بات میں بھی مقابلہ کرتے ہیں کہ موجودہ گورنمنٹوں نے ان کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور کس قدر ان کے ربانی رعب یا الہی تائید نے اثر دکھایا تو ہمیں اقرار کرنا پڑتا ہے کہ حضرت مسیح میں بمقابلہ جناب مقدس نبوی خاتم الانبياء صلى الله علیہ وسلم کی خدائی تو کیا نبوت کی شان بھی پائی نہیں جاتی ۔ جناب مقدس نبوی کے جب پادشاہوں کے نام فرمان جاری ہوئے تو قیصر روم نے آہ کھینچ کر کہا کہ میں تو عیسائیوں کے پنجہ میں مبتلا ہوں ۔ کاش اگر مجھے اس جگہ سے نکلنے کی گنجائش ہوتی تو میں اپنا فخر