نورالقرآن نمبر 1 — Page 372
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۷۰ نور القرآن نمبرا کی حالت دینداری تباہ ہو گئی ہو جس کی طرف وہ بھیجا گیا ہے۔ لیکن حضرت مسیح یہود کو ایسا الزام کوئی بھی نہیں دے سکے جس سے ثابت ہوتا ہو کہ انہوں نے اپنے اعتقاد بدل ڈالے ہیں یا وہ چور اور زناکار اور قمار باز وغیرہ ہو گئے ہیں یا انہوں نے توریت کو چھوڑ کر کسی اور کتاب کی پیروی اختیار کر لی ہے بلکہ خود گواہی دی کہ فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں اور نہ یہود نے اپنے بد چلن اور بدکار ہونے کا اقرار کیا ۔ پھر دوسرے سچے نبی کی سچائی پر یہ بھاری دلیل ہوتی ہے کہ وہ کامل اصلاح کا ایک بھاری نمونہ دکھلا وے پس جب ہم اس نمونہ کو حضرت مسیح کی زندگی میں غور کرتے ہیں اور دیکھنا چاہتے ہیں کہ انہوں نے کون سی اصلاح کی اور کتنے لاکھ یا ہزار آدمی نے ان کے ہاتھ پر توبہ کی تو یہ خانہ بھی خالی پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ ہاں باتاں حواری ہیں ۔ مگر جب ان کا اعمال نامہ دیکھتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے اور افسوس آتا ہے کہ یہ لوگ کیسے تھے کہ اس قد را خلاص کا دعوی کر کے پھر ایسی ناپا کی دکھلاویں جس کی نظیر دنیا میں نہیں ۔ کیا تمیں روپیہ لے کر ایک سچے نبی اور پیارے رہنما کو خونیوں کے حوالہ کرنا حواری کہلانے کی یہی حقیقت تھی کیا لازم تھا کہ پطرس جیسا حواریوں کا سردار حضرت مسیح کے سامنے کھڑے ہو کر ان پر لعنت بھیجے اور چند روزہ زندگی کے لئے اپنے مقتدا کو اس کے منہ پر گالیاں دے۔ کیا مناسب تھا کہ حضرت مسیح کے پکڑے جانے کے وقت میں تمام حواری اپنا اپنا راہ لیں اور ایک دم کے لئے بھی صبرنہ کریں۔ کیا جن کا پیارا نبی قتل کرنے کے لئے پکڑا جائے ایسے لوگوں کےصدق وصفا کے یہی نشان ہوا کرتے ہیں جو حواریوں نے اس وقت دکھلائے ان کے گذر جانے کے بعد مخلوق پرستوں نے باتیں بنائیں اور آسمان پر چڑھا دیا مگر جو کچھ انہوں نے اپنی زندگی میں اپنا ایمان دکھلایا وہ باتیں تو اب تک انجیلوں میں موجود ہیں غرض وہ دلیل جو نبوت اور