نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 371

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۹ نور القرآن نمبرا اب کیا دنیا میں کوئی عیسائی یا یہودی یا آریہ اپنے کسی ایسے مصلح کو بطور نظیر پیش کر سکتا ہے۔ جس کا آنا ایک عام اور اشد ضرورت پر مبنی ہو اور جانا اس غرض کی تکمیل کے (۲۹) بعد ہو اور ان مخالفوں کو اپنی ناپاک حالت اور بدعملیوں کا خود اقرار ہو جن کی طرف وہ رسول بھیجا گیا ہو۔ میں جانتا ہوں کہ یہ ثبوت بجز اسلام کے کسی کے پاس موجود نہیں۔ ظاہر ہے کہ حضرت موسی صرف فرعون کی سرکوبی کے لئے اور اپنی قوم کو چھڑانے کے لئے اور نیز راہ راست دکھلانے کے لئے آئے تھے سارے جہان کے فساد یا عدم فساد کی ان کو کچھ غرض ( ۳۰ ) نہیں تھی اور یہ تو بیچ ہے کہ فرعون کے ہاتھ سے انہوں نے اپنی قوم کو چھوڑ دیا مگر شیطان کے ہاتھ سے چھوڑا نہ سکے اور نیز وعدہ کے ملک تک ان کو پہنچا نہ سکے اور ان کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو تزکیہ نفس نصیب نہیں ہوا اور بار بار نافرمانیاں کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت موسیٰ فوت ہو گئے اور ان کا وہی حال تھا اور حضرت مسیح کے حواریوں کی حالت خود انجیل سے ظاہر ہے حاجت تصریح نہیں اور یہ بات کہ یہودی جن کے لئے حضرت مسیح نبی ہو کر آئے تھے کس قدر ان کی زندگی میں ہدایت پذیر ہو گئے تھے۔ یہ بھی ایک ایسا امر ہے کہ کسی پر پوشیدہ نہیں بلکہ اگر حضرت مسیح کی نبوت کو اس معیار سے جانچا جائے تو نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان کی نبوت اس معیار کی رو سے کسی طرح ثابت نہیں ہو سکتی کیونکہ اول نبی کے لئے ضروری ہے کہ اس وقت آوے کہ جب فی الواقعہ اس امت نوٹ : عیسائی کفارہ پر بہت ناز رکھتے ہیں مگر عیسائی تاریخ کے واقف اس سے بے خبر نہیں کہ مسیح کی خودکشی سے پہلے جو عیسائیوں کے زعم میں ہی تھوڑے بہت عیسا ئی نیک چلن تھے مگر خود کشی کے بعد تو عیسائیوں کی بدکاریوں کا بند ٹوٹ گیا۔ کیا یہ کفارہ کی نسل جو اب یورپ میں موجود ہے اپنے چال و چلن میں ان لوگوں سے مشابہ ہے جو کفارہ سے پہلے مسیح کے ساتھ پھرتی تھی ۔ منہ