نورالقرآن نمبر 1

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 370 of 581

نورالقرآن نمبر 1 — Page 370

روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۸ نور القرآن نمبرا تمام اشارات قرآن شریف ہی سے مستنبط ہوتے ہیں جس کی تصدیق اسلام کی متفق علیہ تاریخ سے بہ تفصیل تمام ہوتی ہے۔ بقیہ حاشیہ: بعض عیسائی پادریوں نے اس سے بھی بڑھ کر حقیقت نہی کا جو ہر دکھلایا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ در حقیقت اصلاح کچھ چیز ہی نہیں اور نہ کبھی کسی کی اصلاح ہوئی۔ توریت کی تعلیم اصلاح کے لئے نہیں تھی بلکہ اس ایما کے لئے کہ گناہ گار انسان خدا کے احکام پر چل نہیں سکتا اور انجیل کی تعلیم بھی اسی مدعا سے تھی۔ ور نہ طمانچہ کھا کر دوسری گال بھی پھیر دیا نہ کبھی ہوا نہ ہوگا اور کہتے ہیں کہ کیا مسیح کوئی جدید تعلیم لے کر آیا تھا اور پھر آپ ہی جواب دیتے ہیں کہ انجیل کی تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔ اور بائبل کے متفرق مقامات جمع کرنے سے انجیل بن جاتی ہے پھر مسیح کیوں آیا تھا ؟ اس کا جواب دیتے ہیں کہ صرف خود کشی کے لئے مگر تعجب کہ خود کشی سے بھی مسیح نے جی چرایا اور ایلی ایلی لما سبقتنی منہ پر لایا۔ پھر یہ بھی تعجب کا مقام ہے کہ زید کی خودکشی سے بکر کو کیا حاصل ہوگا اگر کسی کا کوئی عزیز اس کے گھر میں بیمار ہو اور وہ اس کے غم سے چھری مارلے تو کیا وہ عزیز اس نابکار حرکت سے اچھا ہو جائے گا۔ یا اگر مثلاً کسی کے بیٹے کو درد قولنج ہے تو اس کا باپ اس کے غم میں اپنا سر پتھر سے پھوڑ لے تو کیا اس احمقانہ حرکت سے بیٹا اچھا ہو جائے گا۔ اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ زید کوئی گناہ کرے اور بکر کو اس کے عوض سولی پر کھینچا جائے یہ عدل ہے یا رحم کوئی عیسائی ہم کو جتلا وے ہم اس کے اقراری ہیں کہ خدا کے بندوں کی بھلائی کے لئے جان دینا یا جان دینے کے لئے مستعد ہونا ایک اعلیٰ اخلاقی حالت ہے لیکن سخت حماقت ہی ہوگی کہ خود کشی کی بے جا حرکت کو اس مد میں داخل کیا جائے۔ ایسی خود کشی تو سخت حرام ہے اور نادانوں اور بے صبروں کا کام ہے۔ ہاں جاں فشانی کا پسندیدہ طریق اس کامل مصلح کی لائف میں چمک رہا ہے جس کا نام محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے ۔ منہ