نورالقرآن نمبر 1 — Page 366
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۴ نور القرآن نمبرا لوگ دین اسلام میں داخل ہو گئے ۔ اور یہ آیتیں بھی نازل ہو گئیں کہ خدا تعالیٰ نے ایمان اور تقویٰ کو ان کے دلوں میں لکھ دیا اور فسق اور فجور سے انہیں بیزار کر دیا اور پاک اور نیک اخلاق سے وہ متصف ہو گئے اور ایک بھاری تبدیلی ان کے اخلاق بقیہ حاشیہ چرایا ہے کیونکہ ان کی یہ تحریر میں اس وقت کی ہیں کہ جب حضرت عیسی کا وجود بھی دنیا میں نہیں تھا۔ پس نا چار مانا پڑا کہ چور عیسائی ہی ہیں چنانچہ پوٹ صاحب بھی اس بات کے قائل ہیں کہ ” تثلیث افلاطون کے لئے ایک غلط خیال کی پیروی کا نتیجہ ہے مگر اصل یہ ہے کہ یونان اور ہند اپنے خیالات میں مرایا متقابلہ کے طرح تھے۔ قریب قیاس یہ ہے کہ یہ شرک کے انبار پہلے ہند سے وید ودیا کی صورت میں یونان میں گئے۔ پھر وہاں سے نادان عیسائیوں نے چرا چرا کر انجیل پر حاشئے چڑھائے اور اپنا نامہ اعمال درست کیا۔“ اب ہم اصل معنوں کی طرف توجہ کر کے لکھتے ہیں کہ جبکہ ان تمام فرقوں میں سے ایک فرقہ دوسرے فرقہ کا مکذب ہے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ ہر ایک ان میں سے اپنی رائے میں دنیا کی اصلاح اس بات میں دیکھتا ہے کہ اس کے مخالف فرقہ کا اعتقاد نابود ہو ۔ اور اس بات کا قائل ہے کہ اس کے مخالف کا عقیدہ نہایت خراب اور غیر صحیح ہے۔ پس جبکہ ہر یک فرقہ اپنے مخالف پر نظر ڈال کر اس خرابی کو مان رہا ہے تو اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ہر ایک فرقہ کو بالضرورت اقرار کرنا پڑا ہے کہ در حقیقت آپ کے ہاتھ سے دنیا کی عام اصلاح ظہور میں آئی ۔ اور آپ در حقیقت مصلح اعظم تھے۔ ماسوا اس کے ہر ایک فرقہ کے محقق اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ در حقیقت ان کے مذہب کے لوگ اس زمانہ میں سخت بدچلن اور بدراہیوں میں مبتلا ہو گئے تھے۔ چنانچہ اس زمانہ کی بد چلنی اور خراب حالت کے بارے میں پادری فنڈل میزان الحق میں اور محق پوٹ اپنی کتاب میں اور پادری جیمس کیمرن لیس اپنے لیکچر مطبوعہ مئی ۱۸۸۲ء میں اس بات کے قائل ہیں ۔ ماسوا اس کے حقیقی نیکی اور راہ راست کو پہچاننے والے جانتے ہیں کہ یہ تمام فرقے ایک تاریکی کے گڑھے میں پڑے