نورالقرآن نمبر 1 — Page 365
روحانی خزائن جلد ۹ ۳۶۳ نور القرآن نمبرا بلانے کا حکم ہوا کہ جب اپنا کام پورا کر چکے تھے یعنی اس وقت کے بعد بلائے گئے جبکہ یہ آیت نازل ہو چکی کہ مسلمانوں کے لئے تعلیم کا مجموعہ کامل ہو گیا اور جو کچھ ضروریات دین میں نازل ہونا تھا وہ سب نازل ہو چکا اور نہ صرف یہی بلکہ یہ بھی (۲۵) خبر دی گئی کہ خدا تعالی کی تائید میں بھی کمال کو پہنچ گئیں اور جوق در جوق بقیہ حاشیہ معجزہ نما تالاب سے واقف نہیں جو اسی زمانہ میں تھا اور کیا اسرائیل میں ایسے نبی نہیں گذرے جن کے بدن کے چھونے سے مُردے زندہ ہوئے پھر خدائی کی شیخی مارنے کے لئے کون سے وجوہات ہیں جائے شرم !!! اور اگر چہ ہندوؤں نے اپنے اوتاروں کی نسبت شکتی کے کام بہت لکھے ہیں اور خواہ نخواہ ان کو پر میشر ثابت کرنا چاہا ہے مگر وہ قصے بھی عیسائیوں کے بے ہودہ قصوں سے کچھ کم نہیں ہیں اور اگر فرض بھی کریں کہ کچھ ان میں سے صحیح بھی ہے ۔ تب بھی عاجز انسان جو ضعف اور نا توانی کا خمیر رکھتا ہے۔ پر میشر نہیں ہو سکتا اور احیاء حقیقی تو خود باطل اور الہی کتابوں کے مخالف ۔ ہاں اعجازی احیاء جس میں دنیا کی طرف رجوع کرنا اور دنیا میں پھر (۲۶) آباد ہونا نہیں ہوتا ۔ ممکن تو ہے مگر خدائی کی دلیل نہیں کیونکہ اس کے مدعی عام ہیں مردوں سے باتیں کر ا دینے والے بہت گذرے ہیں مگر یہ طریق کشف قبور کے قسم میں سے ہے۔ ہاں ہندوؤں کو عیسائیوں پر ایک فضیلت بے شک ہے ۔ اس کے بلا شبہ ہم قائل ہیں اور وہ یہ ہے کہ وہ بندوں کو خدا بنانے میں عیسائیوں کے پیشرو ہیں ۔ انہیں کے ایجاد کی عیسائیوں نے بھی پیروی کی۔ ہم کسی طرح اس بات کو چھپا نہیں سکتے کہ جو کچھ عیسائیوں نے عقلی اعتراضوں سے بچنے کے لئے باتیں بنائی ہیں یہ باتیں انہوں نے اپنے دماغ سے نہیں نکالیں بلکہ شاستروں اور گرنتھوں میں سے چرائی ہیں یہ تمام تو وہ طوفان پہلے ہی سے برہمنوں نے کرشن اور رام چندر کے لئے بنا رکھا تھا جو عیسائیوں کے کام آیا پس یہ خیال بدیہی البطلان ہے کہ شائد ہندوؤں نے عیسائیوں کی کتابوں میں سے