نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 598

نشانِ آسمانی — Page 419

روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۹ نشان آسمانی تو پھر پیشگوئی کو استخفاف کی نظر سے دیکھنا اور لکڑی کا سانپ بنانے کیلئے درخواست کرنا ۳۲) انہیں مولویوں کا کام ہے جنہوں نے قرآن کریم میں خوض کرنا چھوڑ دیا اور نیز زمانہ کی ہوا سے بے خبر ہیں ۔ بہر حال چونکہ میری طرف سے آسمانی فیصلہ میں ایمانی مقابلہ کیلئے درخواست ہے تو پھر مقابلہ سے دستکش ہو کر خاص مجھ سے نشانوں کیلئے استدعا کرنا اس صورت میں میاں نذیرحسین اور بٹالوی صاحب کا حق پہنچتا ہے کہ جب حسب تحریر میری اول اس بات کا اقرار شائع کریں کہ ہم لوگ صرف نام کے مسلمان ہیں اور دراصل ایمانی انوار و علامات ہم میں موجود نہیں کیونکہ یک طرفہ نشانوں کے دکھلانے کیلئے بغرض کبر شکنی ان کی کے میں نے یہی شرط آسمانی فیصلہ میں قرار دی ہے اور نیز ظاہر بھی ہے کہ ان لوگوں کو بجائے خود مومن کامل اور شیخ الکل اور ملہم ہونے کا دعویٰ ہے اور مجھے کو ایمان سے خالی اور بے نصیب سمجھتے ہیں تو پھر بجز مقابلہ کے اور کونسی صورت فیصلہ کی ہے ہاں اگر اپنے ایمانی کمالات کے دعوی سے دست بردار ہو جائیں تو پھر یک طرفہ ثبوت ہمارے ذمہ ہے۔ اس بات کا جواب میاں نذیر حسین اور بٹالوی صاحب کے ذمہ ہے کہ وہ باوجود دعوی مومن کامل بلکہ شیخ الکل ہونے کے کیوں ایسے شخص کے مقابلہ سے بھاگتے ہیں جو ان کی نظر میں کافر بلکہ سب کافروں سے بدتر ہے اور کس بنا پر یک طرفہ نشان مانگتے ہیں۔ اگر فیصلہ آسمانی کے جواب میں یہ درخواست ہے تو حسب منشاء اس رسالہ کے درخواست ہونی چاہئے یعنی اگر اپنی ایمانداری کا کچھ دھوئی ہے تو مقابلہ کرنا چاہئے جیسا کہ آسمانی فیصلہ میں بھی شرط درج ہے ورنہ صاف اس بات کا اقرار کر کے کہ ہم حقیقی ایمان سے خالی ہیں یک طرفہ نشان کی درخواست کریں۔ بالآخر ہم یہ بھی ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں پیشگوئیاں میاں گلاب شاہ اور نعمت اللہ ولی کی اس عاجز کے حق میں حسب منشا قرآن کریم کے نشان صریح ہیں