نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 418 of 598

نشانِ آسمانی — Page 418

روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۸ نشان آسمانی اس عاجز کے سلسلہ بیعت میں داخل ہو گیا میرے مکان پر ایک مجلس میں شعبدہ دکھلا یا تب آپ جیسے ایک بزرگ بول اٹھے کہ یہ تو صریح کرامت ہے۔ حضرت ایسے کاموں سے ہرگز حقیقت نہیں کھلتی بلکہ اس زمانہ میں تو اور بھی شک پڑتا ہے۔ بہتیرے ایسے تماشا کرنے والے اور طلسم دکھلانے والے پھرتے ہیں کہ اگر آپ ان کو دیکھیں تو کراماتی نام رکھیں لیکن کوئی عقل مند جس کی آج کل کے شعبدوں پر نظر محیط ہو ۔ ایسے کاموں کا نام نشان بین نہیں رکھ سکتا۔ مثلاً اگر کوئی شخص ایک کاغذ کے پرچہ کو اپنی بغل میں پوشیدہ کر کے پھر بجائے کاغذ کے اس میں سے کبوتر نکال کر دکھلا دے تو پھر آپ جیسا کوئی آدمی اگر اس کو صاحب کرامات کہے تو کہے مگر ایک عقل مند جو ایسے لوگوں کے فریبوں سے بخوبی واقف ہے ہرگز اس کا نام کرامت نہیں رکھے گا بلکہ اس کو فریب اور دست بازی قرار دے گا اسی وجہ سے قرآن کریم اور توریت میں سچے نبی کی شناخت کیلئے یہ علامتیں قرار نہیں دیں کہ وہ آگ سے بازی کرے یا لکڑی کے سانپ بناوے یا اسی قسم کے اور کرتب دکھلاوے بلکہ یہ علامت قرار دی کہ اس کی پیشگوئیاں وقوع میں آجائیں یا اس کی تصدیق کیلئے پیشگوئی ہو ۔ کیونکہ استجابت دعا کے ساتھ اگر حسب مراد کوئی امر غیب خدا تعالی کسی پر ظاہر کرے اور وہ پورا ہو جائے تو بلاشبہ اس کی قبولیت پر ایک دلیل ہوگی اور یہ کہنا کہ نجومی یار تال اس میں شریک ہیں یہ سراسر خیانت اور مخالف تعلیم قرآن ہے کیونکہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ پس جب کہ خدا تعالیٰ نے امور غیبیہ کو اپنے مرسلین کی ایک علامت خاصہ قرار دی ہے۔ چنانچہ دوسری جگہ بھی فرمایا ہے۔ وَانْ يَّكُ صَادِقًا يُصِبْكُمْ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ نوٹ : خدائے تعالی بجز ان لوگوں کے جن کو وہ ہدایت خلق کیلئے بھیجتا ہے کسی دوسرے کو اپنے غیب پر مطلع نہیں کرتا۔ ۔ اگر یہ رسول سچا ہے تو اس کی بعض پیشگوئیاں جو تمہارے حق میں ہیں پوری ہوں گی یعنی پیشگوئیوں کا پورا ہونا سچائی کی نشانی ہے۔ الجن : ۲۸۲۷ - المؤمن : ۲۹