نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 417 of 598

نشانِ آسمانی — Page 417

روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۷ نشان آسمانی اور مشرکین نے یہ بھی کہا کہ ہمارے مردے ہمارے لئے زندہ کر دیوے یا آسمان پر ہمارے رو برو چڑھ جاوے اور کتاب لاوے جس کو ہم ہاتھ میں لے کر دیکھ لیں وغیرہ وغیرہ مگر خدائے تعالیٰ نے محکوموں کی طرح ان کی پیروی نہیں کی اور وہی نشان دکھلائے جو اس کی مرضی تھی یہاں تک کہ بعض دفعہ نشان طلب کرنے والوں کو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تمہارے لئے قرآن کا نشان کافی نہیں ۔ اور یہ جواب نہایت پر حکمت تھا کیونکہ ہر ایک عقل مند سمجھتا ہے کہ نشان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک وہ کہ ان میں اور سحر و مکر و دست بازی وغیرہ میں تفرقہ و تمیز کرنا نہایت مشکل بلکہ محال ہوتا ہے اور دوسرے وہ نشان ہیں جو ان مغشوش کاموں سے بلکلی تمیز رکھتے ہیں اور کوئی شائبہ یا شبه سحر یا مکر یا دست بازی اور حیلہ گری کا ان میں نہیں پایا جاتا۔ سو اسی دوسری قسم میں سے قرآن کریم کا معجزہ ہے جو بکلی روشن اور ہر یک پہلو اور ہر ایک طور سے لعل تاباں کی طرح چمک رہا ہے۔ لکڑی کا سانپ بنانا کوئی ممیز نشان نہیں ہے ۔ حضرت موسیٰ نے بھی سانپ بنایا اور ساحروں نے بھی اور اب بھی بنائے جاتے ہیں مگر اب تک معلوم نہیں ہوا کہ سحر کے سانپ اور معجزہ کے سانپ میں ما بہ الامتیاز کیا ہے ۔ اسی طرح سب امراض میں عمل الترب میں مشق کرنے والے خواہ وہ عیسائی ہیں یا ہندویا یہودی یا مسلمان یا دہر یہ اکثر کمال رکھتے ہیں اور البتہ بعض اوقات جذام وغیرہ امراض مزمنہ کو ہمشیت الہی اسی عمل کی تاثیر سے دور کر دیتے ہیں سو صرف شفاء امراض پر حصر رکھنا ایک دھوکہ ہے جب تک اس کے ساتھ پیشگوئی شامل نہ ہو اسی طرح آج کل بعض تماشا کرنے والے آگ میں بھی کو دتے ہیں اور اس کے اثر سے بچ جاتے ہیں سو کیا اس قسم کے تماشوں سے کوئی حقیقت ثابت ہوسکتی ہے۔ من سلویٰ کا تماشا شاید آپ نے کبھی دیکھا نہیں ایک ایک پیسہ لے کر کشمش وغیرہ برسا دیتے ہیں اگر آپ آج کل کے یورپ کے تماشائیوں کو دیکھیں جو ایک مخفی فریب کی راہ سے ۳۱ ) سرکاٹ کر بھی پیوند کر دیتے ہیں تو شاید آپ ان کے دست بیج ہو جا ئیں ۔ مجھے یاد ہے کہ جالندھر کے مقام میں ایک شعبدہ باز تھا مہتاب علی نام نے جو آخر تو بہ کر کے