نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 411 of 598

نشانِ آسمانی — Page 411

روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۱ نشان آسمانی خدائے تعالیٰ کے فیض کو محدود سمجھنا دین داروں کا کام نہیں یہ دین نہیں ہے بلکہ نفسانی باتیں ہیں۔ دین وہی ہے جو قرآن لا یا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھلایا۔ میں نے ایک دفعہ کہا کہ آپ کا مرید بنا چاہتا ہوں اجازت دیں تا مٹھائی لاؤں فرمایا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ سے مٹھائی منگوایا کرتے تھے ہر ایک نعمت محبت سے حاصل ہوتی ہے۔ بارہا مجذوبانہ حالت میں کہتے کہ معین الدین چشتی اور قطب الدین بختیار کا کی درویش تھے اور (۲۵) میں بادشاہ ہوں اور امراء سے سخت نفرت رکھتے اور غریبوں سے محبت اور پیار سے پیش آتے اور بسنے کیلئے کوئی مکان نہیں بنایا تھا آزاد طبیعت تھے جہاں چاہتے رہتے اور بیماروں کا علاج کرتے اور کسی سے ہر گز سوال نہ کرتے اور محبت الہی سے بھرے ہوئے تھے۔ ان کی تاثیر صحبت سے جو مجھ کو نعمتیں ملیں ان میں سے ایک بڑی نعمت میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس وقت میں جو بڑے بڑے علماء ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گر پڑے۔ مجھ کو خدائے تعالیٰ نے مرزا صاحب کی نسبت ٹھو کر کھانے سے بچالیا یہ استقامت میری قوت سے ظہور میں نہیں آئی یہ اس پیشگوئی کا اثر ہے جو ایک عمر پہلے اس زمانہ سے سن چکا ہوں انہوں نے مجھے کو فرمایا تھا کہ تو دیکھے گا کہ جب عیسی آئے گا اس وقت مولویوں کا کیا حال ہوگا ۔ اس کلمہ میں انہوں نے میری طول عمر کی طرف بھی اشارہ کیا تھا جس سے یہ مطلب تھا کہ تمہیں برس تک تیری زندگی وفا کرے گی میں اس وقت تک زندہ نہیں رہوں گا مگر تو رہے گا اور ان کی فیض صحبت سے جس قدر مجھ کو رویا صالحہ آئیں ان کو اس جگہ میں مفصل لکھ نہیں سکتا۔ میں اکثر مولویوں سے تعلقات محبت و اخلاص رکھتا اور ان کی ہمدردی کرتا ۔ ایک دفعہ فرمانے لگے کہ ان مولویوں کا حال بھی دیکھا کچھ عرصہ کے بعد خواب میں مجھ کو بعض مولوی نظر آئے جن کے کپڑے نہایت چرکیں اور بدن نہایت دبلے تھے اور حالت ذلیل اور خوار تھی اور وہ اسی شہر لدھیانہ کے تھے جن کو میں جانتا ہوں جواب تک زندہ ہیں اور جن علماء کی صحبت سے وہ مجھ کو منع نہیں کرتے تھے بلکہ کہتے تھے کہ ان کی صحبت میں رہوان کے اچھے حالات مجھے پر خواب میں کھلتے تھے ۔ چنانچہ مولوی محمد شاہ صاحب والد بزرگوار