نشانِ آسمانی — Page 410
روحانی خزائن جلد۴ ۴۱۰ نشان آسمانی ایک دفعہ انہوں نے علی بخش نام ایک شخص کو بلایا کہ کوٹھہ پر سے جہاں وہ بیٹھا تھا دوسری طرف چلا آ ۔ اور علی بخش اس کوٹھہ پر سے الگ ہونے سے سستی کرتا تھا آخر انہوں نے جھٹڑک کر اس کو کوٹھہ پر سے اٹھایا۔ پس اسی دم جو علی بخش کوٹھہ پر سے الگ ہوا کو ٹھہ بیک دفعہ گر پڑا۔ ایک دفعہ مجھے پوچھنے لگے کہ کیا تیرے باپ کا ایک دانت بھی ٹوٹا ہوا تھا ۲۳ میں نے کہا کہ ہاں تب انہوں نے فرمایا کہ وہ بہشت میں داخل ہو گیا۔ میرا باپ مدت سے فوت ہو چکا تھا اور ان کو اس کے دانت کی کچھ بھی خبر نہیں تھی کیونکہ وہ اس زمانہ کے بعد ہمارے گاؤں میں آئے تھے سو دانت ٹوٹنے کی خبر انہوں نے الہام کے رُو سے دی اور عالم کشف سے اس کے بہشتی ہونے کی مجھے بشارت دی۔ یہ بھی بیان کے لائق ہے کہ گلاب شاہ ایک مرد با خدا پاک مذہب موحد تھا اور مجذوب ہونے کی حالت میں توحید کا چشمہ ان کی زبان پر جاری تھا میں نے دین اسلام کی راہ اور توحید کا طریقہ انہیں سے سیکھا اور انہیں کی تعلیم کے موافق ذکر الہی کرتا رہا یہاں تک کہ تھوڑے دنوں میں میرا قلب جاری ہو گیا اور عبادت کی لذت آنے لگی اور ایسا ہو گیا کہ جیسا ایک مرا ہوا زندہ ہو جاتا ہے اور کچی خوا میں آنے لگیں جو خواب دیکھتا وہ پوری ہو جاتی اور الہامات صحیحہ مجھ کو ہونے لگے۔ یہ سب کچھ ان کی توجہ کی برکت تھی وہ بار ہا فرمایا کرتے تھے کہ ہر ایک برکت اللہ اور رسول کی پیروی میں ہے اور چار مذہب اور چار سلسلے جو لوگوں نے مقرر کر رکھے ہیں ان کو در اصل کچھ چیز نہیں سمجھنا چاہئے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا مدعا یہ رکھنا چاہئے کہ واقعی طور پر اللہ اور رسول کی پیروی ہو جائے ۔ جو بات اللہ اور رسول سے ثابت نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے گو اس کا کوئی قائل ہوا اور فرمایا کرتے تھے کہ جیسے ایک شاگرد کہے کہ میں اپنے ہی استاد کا کہا مانوں گا نہ کسی اور کا ۔ یہی چار مذہب کے ان مقلدوں کی مثال ہے جو اتباع نبوی سے اپنے ائمہ کی متابعت مقدم سمجھتے ہیں ۔ حق خالص پر وہ لوگ ہیں جو قرآن اور حدیث پر غور کرتے ہیں اور کلام اللہ سے سچائی کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر اس پر عمل کرتے ہیں چار مذہب کا خواہ نخواہ فرمودہ خدا کا مخالف بن کر بھی پیرو بن جانا یا چار سلسلوں میں ہی