نشانِ آسمانی — Page 407
روحانی خزائن جلد۴ ۴۰۷ نشان آسمانی کون ہے تو آج میں بھی اپنے بھائیوں کی طرح میرزا غلام احمد قادیانی کا ایک اشد مخالف ہوتا اگر چہ میں قتل بھی کیا جاتا تا ہم بالکل غیر ممکن اور محال تھا کہ میں میرزا صاحب کو مسیح موعود قبول کر کے اپنے اس محکم عقیدہ کو چھوڑ دیتا جس کو میں اپنے خیال میں اہل سنت والجماعت کا مذہب اور سلف صالح کا اعتقاد اور اپنے علماء کا عقیدہ مسلمہ سمجھتا تھا۔ لیکن یہ خدائے تعالیٰ کی میرے حق میں ایک رحمت تھی جو اس نے اس واقعہ (1) سے تمہیں برس پہلے ایک باخدا مرد اور بیابان کے پھرنے والے ایک مجذوب کی زبان سے وہ باتیں میرے کانوں تک پہنچا دیں جواب میرے لئے ایک عظیم الشان نشان ہو گئیں اور ان پیشگوئیوں نے میرے دل کو مرزا صاحب کی سچائی پر ایسا قائم کر دیا کہ اگر اب کوئی ٹکڑہ ٹکڑہ بھی کرے تو مجھے اس راہ میں اپنی جان کی بھی کچھ پرواہ نہیں جیسے روز روشن جب نکلتا ہے تو کسی کو اس میں کچھ شک نہیں رہتا ایسا ہی مجھ پر ثابت ہو گیا ہے کہ میرزا غلام احمد قادیانی وہی مسیح موعود ہیں جن کے آنے کا وعدہ تھا جن کا کتابوں میں عیسی نام رکھا گیا ہے اور میرا دل اس یقین سے بھرا ہوا ہے کہ عیسی نبی علیہ السلام مر گیا اور پھر نہیں آئے گا۔ جس کے آنے کی رسول کریم نے بشارت دی تھی وہ یہی امام ہے جو اسی امت سے پیدا ہوا۔ سو میں نے چاہا کہ اس سچائی کو اوروں پر بھی ظاہر کروں ۔ اور نا واقف لوگوں کو حق پر قائم کرنے کیلئے مدددوں اور خدا میرے دل کو دیکھ رہا ہے کہ میں سچا ہوں اور اگر میں سچا نہیں تو خدا میرے پر تباہی ڈالے۔ پس اے بھائیوڈرو اور ناحق کی بدظنی سے اپنے بھائی کی گواہی ردمت کرو کہ وہ دن ہم سب کیلئے قریب ہے جس سے ہم کسی طرف بھاگ نہیں سکتے ۔ وہ گواہی جو میرے پاس ہے یہ ہے کہ میرے گاؤں جمال پور میں جو ضلع لودھیانہ میں واقع ہے ایک بزرگ مجذوب باخدا آدمی تھے جن کا نام گلاب شاہ تھا میں ان کی صحبت میں اکثر رہتا اور ان سے فیض حاصل کرتا تھا اور اگر چہ میں مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا تھا اور مسلمان کہلاتا تھا لیکن میں اس امر کے اظہار سے رہ نہیں سکتا کہ در حقیقت انہوں نے ہی مجھے طریق اسلام سکھلایا اور توحید کی صاف اور پاک راہ پر میرا قدم جمایا۔ اس بزرگ درویش نے ایک دفعہ