نشانِ آسمانی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 406 of 598

نشانِ آسمانی — Page 406

روحانی خزائن جلد۴ ۴۰۶ نشان آسمانی اور نہ میں نے بلکہ خدائے تعالیٰ نے یادرکھنے میں مجھ کو مدد دی ہے تا ایک گواہی جو میرے پاس تھی اپنے وقت پر ادا ہو جائے ہر چند کہ میں ابتدا سے خوب جانتا ہوں کہ اس گواہی کے ادا کرنے سے میں اپنی عزیز قوم کو سخت ناراض کروں گا اور وہ کفر جو علماء کے دعوت خانہ سے تقسیم ہو رہا ہے اس کا ایک وافر حصہ مجھ کو بھی ملے گا اور اپنے بھائیوں کی میل ملاقات سے ترک کیا جاؤں گا اور سب وشتم اور لعن و طعن کا نشانہ بنوں گا لیکن ساتھ اس کے مجھے اس بات پر بھی یقین کلی ہے کہ اگر اس دینی گواہی کو اس پر فتنہ وقت میں پوشیدہ رکھوں گا تو اپنے رب کریم کو ناراض کر دوں گا اور کبیرہ گناہ کا مرتکب ہو جاؤں گا اور اس جلتی ہوئی آگ میں ڈالا جاؤں گا جس کا کچھ انتہا نہیں۔ سو میں نے دونوں طور کے نقصانوں کو جانچا آخر یہ نقصان مجھ کو خفیف اور بیچ معلوم ہوا کہ میری سچی گواہی کی وجہ سے میری برادری کے معزز لوگ مجھ کو چھوڑ دیں گے یا میں مولویوں کے فتووں میں کافر کافر کر کے لکھا جاؤں گا اب میں بڑھا ہوں اور قریب موت کمال بدنصیبی ہوگی کہ اس عمر تک پہنچ کر پھر میں غیر اللہ سے ڈروں مجھ کو اس کفر اور معصیت سے خوف آتا ہے جو خدائے تعالیٰ کے نزدیک ہے اور میں جہنم کی آگ کی کسی طرح برداشت نہیں کر سکتا۔ پھر میں کیوں چار دن کی زندگی کیلئے مولویوں یا برادری کی خاطر روز حشر میں اپنا مونہ سیاہ کروں خدائے تعالیٰ مجھے ایمان پر موت دے میں بھی جھوٹ نہیں بولوں گا اگر وہ راضی ہو تو پھر دنیا کی ہر ایک رسوائی در حقیقت ایک عزت ہے اور ہر ایک درد ایک لذت۔ بھائیوں کی جدائی سے بھی اپنے اللہ کی راہ میں مجھے اندیشہ نہیں میری اب آخری عمر ہے۔ بہت سے عزیزوں کو موت نے مجھ سے جدا کر دیا اور میں بھی جلد اس مسافر خانہ سے سفر کر کے باقی ماندہ عزیزوں سے جدا ہونے والا ہوں پھر اگر خدائے تعالیٰ کیلئے اور اس کی راہ میں اور اس کے راضی کرنے کیلئے جدائی ہو تو زہے قسمت کہ ایسا ثواب مجھ کو حاصل ہو ۔ بھائیو! یقینا سمجھو کہ اگر یہ گواہی میرے پاس نہ ہوتی اور اس وقت سے تمیں یا اکتیس برس پہلے اگر ایک ربانی مجذوب میرے پر یہ راز نہ کھولتا کہ آنے والا عیسی موعود