نشانِ آسمانی — Page 384
روحانی خزائن جلد۴ ۳۸۴ نشان آسمانی پیش آ وے جو ترک عیارست نظر آوے اور اس کا دشمن بھی خمار میں دکھلائی دے اور ظاہر ہے کہ اس زمانہ میں بجز اس عاجز کے کسی نے مسیح موعود ہونے کا دعوی نہیں کیا تا اسکے دعوئی کے بعد ایک ناقص الفہم اس عاجز کو ترک قرار دے پس اس شعر کے صحیح معنے یہ ہیں کہ اس مسیح کے ظہور کے بعد ترکی سلطنت کچھ ست ہو جاوے گی اور سلطنت کا مخالف بھی یعنی روس فتح یابی کا کچھ اچھا پھل نہیں دیکھے گا اور آخر کار فتح کا سرور جاتا رہے گا اور خماررہ جائے گا اور نیز یہ شعر یعنی مهدی وقت و عینی دوراں صاف دلالت کرتا ہے کہ وہی مہدی موعود مسیح موعود بھی ہو گا ۔ حالانکہ سید احمد صاحب نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں مسیح موعود بھی ہوں ۔ اور حدیثوں کی رو سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ مہدی کے ظہور کے وقت ترکی سلطنت کچھ ضعیف ہو جائے گی اور عرب کے بعض حصوں میں نئی سلطنت کے لئے کچھ تدبیریں کرتے ہوں گے اور ترکی سلطنت کو چھوڑنے کیلئے تیار ہوں گے سو یہ علامات مهدی موعود اور مسیح موعود کی ہیں جس نے سوچنا ہو سوچے ۔ محمد جعفر صاحب کی سمجھ پر تعجب ہے کہ انہوں نے اس مصرعہ پر بھی غور نہیں کی کہ پسرش یادگار مے بینم ۔ یہ پیشگوئی سید احمد صاحب پر کیونکر صادق آ سکتی ہے۔ اگر آج یعنی ۲۷ جنوری ۱۹۶ء کو زندہ ہو کر آجائیں تو ایک سو بارہ برس کے ہوں گے تو کیا اس عمر میں جو روکر یں گے اور لڑکا پیدا ہوگا۔ پھر ماسوا اسکے یہ لڑکا پیدا ہونا اور جو رو کرنا مسیح موعود کی بہت حدیثوں میں لکھا ہے اور اسکے مطابق نعمت اللہ صاحب کا الہام ہے کیونکہ مسیح موعود کی بہت حدیثوں میں ہے کہ يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُ لَهُ ۔ لیکن سید صاحب نے تو کبھی مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ پس وہ کیونکر اس پیشگوئی کے مصداق ہو سکتے ہیں اور یہ بھی یادر ہے کہ مصرعہ ترک عیار میں لفظ عیار کا محل زم میں نہیں ہے بلکہ یہ لفظ فارسیوں کے استعمال میں محمل مدح میں آتا ہے ۔ حافظ فرماتے ہیں ۔ خیال زلف تو پختن نه کار خامان است که زیر سلسله رفتن طریق عیاری سه منه ست