نسیمِ دعوت — Page 464
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۶۲ نسیم دعوت جب بچہ پیٹ میں ہوتا ہے تو صرف اس کو خون کی غذا ملتی ہے اور جب پیدا ہوتا ہے تو ایک مدت تک صرف دودھ پیتا ہے اور پھر بعد اس کے اناج کھاتا ہے اور خدائے تعالیٰ تینوں سامان اس کے لئے وقتاً فوقتاً پیدا کر دیتا ہے۔ پیٹ میں ہونے کی حالت میں پیٹ کے فرشتوں کو جو اندرونی ذرات ہیں حکم کر دیتا ہے کہ اس کی غذا کے لئے خون بنا دیں اور پھر جب پیدا ہوتا ہے تو اس حکم کو منسوخ کر دیتا ہے تو پھر پستان کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اس کے لئے دودھ بناویں اور جب وہ دودھ سے پرورش پا چکتا ہے تو پھر اس حکم کو بھی منسوخ کر دیتا ہے تو پھر زمین کے فرشتوں کو جو اس کے ذرات ہیں حکم کرتا ہے جو اس کے لئے اخیر مدت تک اناج اور پانی پیدا کرتے رہیں۔ پس ہم مانتے ہیں کہ ایسے تغیر خدا کے احکام میں ہیں خواہ بذریعہ قانونِ قدرت اور خواہ بذریعہ شریعت مگر اس سے خدا میں تغیر کو نسالا زم آیا۔ شرم ! شرم !! شرم !!! مگر افسوس کہ وید کی رُو سے خدا ان تغیرات کا مالک نہیں بن سکتا کیونکہ وید تو خدا کے فرشتوں کا منکر ہے۔ پس کیونکر دنیا کے ذرات اور روحوں کی قوتیں اس کی آواز سن سکتی ہیں۔ علم طبعی اور ہیئت کا سلسلہ تبھی خدا کی طرف منسوب ہوسکتا ہے کہ جب طبعی طور پر ہر ایک ذرہ مخلوقات کا خدا کا فرشتہ مان لیا جائے ورنہ فرشتوں کے انکار سے دہر یہ بنا پڑے گا کہ جو کچھ دنیا میں ہورہا ہے پر میشر کو اس کا کچھ بھی علم نہیں اور نہ اس کی مرضی اور ارادہ سے ہورہا ہے مثلاً کانوں میں سونا اور چاندی اور پیتل اور تانبا اور لوہا طیار ہوتا ہے اور بعض کانوں میں سے ہیرے نکلتے ہیں اور نیلم پیدا ہوتا ہے اور بعض جگہ یا قوت کی کا نہیں ہیں اور بعض دریاؤں میں سے (۹۰) موتی پیدا ہوتے ہیں اور ہر ایک جانور کے پیٹ سے بچہ یا انڈہ پیدا ہوتا ہے۔ اب خدا نے تو قرآن شریف میں ہمیں یہ سکھلایا ہے کہ یہ طبعی سلسلہ خود بخود نہیں بلکہ ان چیزوں کے تمام ذرات خدا کی آواز سنتے ہیں اور اس کے فرشتے ہیں یعنی اس کی طرف سے ایک کام کے لئے مقرر شدہ ہیں۔ پس وہ کام اس کی مرضی کے موافق وہ کرتے رہتے ہیں۔ سونے کے ذرات سونا بناتے رہتے ہیں اور چاندی کے ذرات چاندی بناتے رہتے ہیں اور موتی کے ذرات موتی بناتے ہیں اور انسانی وجود کے ذرات ماؤں کے پیٹ میں انسانی بچہ