نسیمِ دعوت — Page 459
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۵۷ نسیم دعوت میں عرش کہا گیا ہے۔ اس فلسفہ کا وید کو بھی اقرار ہے مگر یہ لوگ خوب ویددان ہیں جو اپنے گھر کے مسئلہ سے بھی انکار کر رہے ہیں۔ غرض وید کے یہ چار دیوتے یعنی اکاش۔ سورج۔ چاند۔ دھرتی۔ خدا کے عرش کو جو صفت ربوبیت اور رحمانیت اور رحیمیت اور مالک یوم الدین ہے اٹھارہے ہیں۔ اور فرشتہ کا لفظ قرآن شریف میں عام ہے ہر ایک چیز جو اس کی آواز سنتی ہے وہ اس کا فرشتہ ہے۔ پس دنیا کا ذرہ ذرہ خدا کا فرشتہ ہے کیونکہ وہ اس کی آواز سنتے ہیں اور اس کی فرمانبرداری کرتے ہیں اور اگر ذرہ ذرہ اُس کی آواز سنتا نہیں تو خدا نے زمین آسمان کے اجرام کو کس طرح پیدا کر لیا۔ اور یہ استعارہ جو ہم نے بیان کیا ہے اس طرح خدا کے کلام میں بہت سے استعارات ہیں جو نہایت لطیف علم اور پر مشتمل ہیں۔ اگر اب بھی کوئی شخص اپنی ناسمجھی سے باز نہ آوے تو وہ کوئی اعتراض حکمت پر بقیه حاشیه کے وقت اس کی ساری شوکت ظاہر ہوتی ہے۔ ایک طرف شاہی ضرورتوں کے لئے طرح طرح کے سامان طیّار ہونے کا حکم ہوتا ہے اور وہ فی الفور ہو جاتے ہیں اور وہی حقیقت ربوبیت عامہ ہیں۔ دوسری طرف خسروانہ فیض سے بغیر کسی عمل کے حاضرین کو جود وسخاوت سے مالا مال کیا جاتا ہے۔ تیسری طرف جولوگ خدمت کر رہے ہیں ان کو مناسب چیزوں سے اپنی خدمات کے انجام کے لئے مدد دی جاتی ہے۔ چوتھی طرف جزا سزا کا دروازہ کھولا جاتا ہے کسی کی گردن ماری جاتی ہے اور کوئی آزاد کیا جاتا ہے۔ یہ چار صفتیں تخت نشینی کے ہمیشہ لازم حال ہوتی ہیں۔ پس خدا تعالی کا ان ہر چہار صفتوں کو دنیا پر نافذ کرنا گویا تخت پر بیٹھنا ہے جس کا نام عرش ہے۔ اب رہی یہ بات کہ اس کے کیا معنے ہیں کہ اس تخت کو چار فرشتے اُٹھا رہے ہیں۔ پس اس کا یہی جواب ہے کہ ان چار صفتوں پر چار فرشتے موکل ہیں جو دنیا پر یہ صفات خدا تعالیٰ کی ظاہر کرتے ہیں اور ان کے ماتحت چارستارے ہیں جو چار رب النوع کہلاتے ہیں جن کو وید میں دیوتا کے نام سے پکارا گیا ہے۔ پس وہ ان چاروں صفتوں کی حقیقت کو دنیا میں پھیلاتے ہیں گویا اس روحانی تخت کو اٹھا رہے ہیں۔ بہت پرستوں کا جیسا کہ وید سے ظاہر ہے صاف طور پر یہ خیال تھا کہ یہ چار صفتیں مستقل طور پر دیوتاؤں