نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 442 of 566

نسیمِ دعوت — Page 442

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۴۰ نسیم دعوت کے ساتھ بیاہی ہوئی بیوی اس کی آنکھوں کے سامنے دوسرے کے ساتھ خراب ہو۔ کیا اس کی انسانی غیرت اس بے حیائی کو قبول کرے گی دیکھو راجہ رام چندر نے اپنی بیوی سیتا کے لئے کس قدر غیرت دکھلائی حالانکہ راون ایک برہمن تھا اور سیتا کی ابھی کوئی اولاد نہیں ہوئی تھی اور بموجب اس قاعدہ کے برہمن سے نیوگ جائز تھا۔ تا ہم رام چندر کی غیرت نے اپنی پاکدامن بیوی کے لئے راون کو قتل کیا اور لنکا کو جلا دیا۔ وہ شخص انسان کہلانے کا مستحق نہیں جس کو اپنی بیوی کے لئے بھی غیرت نہیں اور کیا وجہ کہ اس کا نام دیوث نہ رکھا جائے ۔حیوانوں میں بھی یہ غیرت مشاہدہ کی گئی ہے پرندوں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ ایک پرند روا نہیں رکھتا کہ دوسرا پرند اس کی مادہ سے تعلق پیدا کرے پھر انسان ہو کر یہ حیا سے دُور حرکت کیا کوئی پاک فطرت اس کو قبول کرے گی اور دیانند کا یہ لکھنا کہ یہ وید کی شرتی ہے ہم نہیں قبول کر سکتے کہ ایسی کوئی شرقی وید میں ہوگی۔ نادانوں میں پنڈت دیا نند نے جس قدر چاہا لا نہیں ماریں ورنہ کامل علمی فضیلت حاصل کرنا جو انسان کے دل کو روشن کرتی ہے ۔ ہر ایک کا کام نہیں ۔ بعض الفاظ کے بہت سے معنے ہوتے ہیں اور ایک جاہل اپنی جلد بازی اور اپنی جہالت سے ایک معنے کو پسند کر لیتا ہے۔ پس ایسا شخص جس میں مادہ حیا کا کم ہوا سے محسوس نہیں ہوتا کہ یہ میرا قول شرافت اور طہارت سے بعید ہے مگر اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسے قابل شرم امر پر دیا نند نے کیوں زور دیا۔ اور کیوں دلیری کر کے یہ گندی تعلیم اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں لکھ دی۔ پس جہاں تک میں نے سوچا ہے میرے خیال میں اس کا یہ جواب ہے کہ چونکہ پنڈت دیا نند تمام عمر مجرد رہا ہے اور بیوی نہیں کی ۔ لہذا اس کو اس غیرت کی خبر نہیں تھی کہ جو ایک شریف اور غیور انسان کو اپنی بیوی کی نسبت ہوا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے اس کی ناتجربہ کا ر فطرت نے محسوس نہ کیا کہ میں کیا لکھ رہا ہوں ۔ دیانند کو معلوم نہیں تھا کہ اپنی بیویوں کی نسبت تو کنجروں کو بھی غیرت ہوتی ہے بلکہ بہت سے لوگ جو بازاری عورتوں