نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 566

نسیمِ دعوت — Page 414

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۲ نسیم دعوت آدمیوں پر جو اس کی طرف جھکتے ہیں چمکتا ہے تو ان کو ایسی طرح روشن کر دیتا ہے جیسا کہ چاند رات کو روشن کرتا ہے۔ اور کوئی انسان اپنی عمر کے پہلے زمانہ میں ہی اس چاند کی روشنی سے حصہ لیتا ہے اور کوئی نصف عمر میں اور کوئی آخری حصہ میں اور بعض بد بخت سلخ کی راتوں کی طرح ہوتے ہیں یعنی تمام عمران پر اندھیرا ہی چھائے رہتا ہے۔ اس حقیقی چاند سے حصہ لینا ان کے نصیب نہیں ہوتا۔ غرض کہ یہ سلسلہ چاند کی روشنی کا اس حقیقی چاند کی روشنی سے بہت مناسبت رکھتا ہے۔ ایسا ہی چاند پھلوں کو موٹا کرتا اور اُن میں طراوت ڈالتا ہے اسی طرح وہ لوگ جو عبادت کر کے اپنے درخت وجود میں پھل تیار کرتے ہیں چاند کی طرح خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہو جاتی ہے اور اس پھل کو موٹا اور تازہ بتازہ کر دیتی ہے اور یہی معنے رحیم کے لفظ میں مخفی ہیں جو سورۃ فاتحہ میں خدا کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جسمانی طور پر چار قسم کی ربوبیت ایسی ہورہی ہے جس سے نظام عالم وابستہ ہے۔ ایک آسمانی ربوبیت یعنی اکاش سے ہے جو جسمانی تربیت کا سر چشمہ ہے جس سے پانی برستا ہے اگر وہ پانی کچھ مدت نہ بر سے تو جیسا کہ علم طبعی میں ثابت کیا گیا ہے۔ کنوؤں کے پانی بھی خشک ہو جائیں یہ آسمانی ربوبیت یعنی اکاش کا پانی بھی دنیا کو زندہ کرتا ہے اور نا بود کو بود کی حالت میں لاتا ہے۔ اس طور پر آسمان ایک پہلا رب النوع ہے جس سے پانی برستا ہے۔ جس کو وید میں اندر کے نام سے یاد کیا گیا ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ ۔ اس جگہ آسمان سے مراد وہ کرہ زمہریر ہے جس سے پانی برستا ہے اور اس آیت میں اس کرہ زمہریر کی قسم کھائی گئی جو مینہ برساتا ہے اور رجع کے معنی مینہ ہے اور خلاصہ معنی آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں وحی کا ثبوت دینے قرآن شریف کی اصطلاح کی رُو سے جو فضا یعنی پول او پر کی طرف ہے جس میں بادل جمع ہو کر مینہ برستا ہے اس کا نام بھی آسمان ہے جس کو ہندی میں اکاش کہتے ہیں۔ منہ ل الطارق :١٢