نسیمِ دعوت — Page 413
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۴۱۱ نسیم دعوت اے بلقیس تو کس غلطی میں گرفتار ہو گئی۔ یہ تو پانی نہیں ہے جس سے ڈر کر تو نے پاجامہ اوپر اُٹھا لیا۔ یہ تو شیشہ کا فرش ہے اور پانی اس کے نیچے ہے۔ اس مقام میں قرآن شریف میں یہ آیت ہے ۔ قَالَ إِنَّهُ صَرْحٌ مُمَرَّدُ مِنْ قَوَارِيرَ یعنی اس نبی نے کہا کہ اے بلقیس ۴۲ تو کیوں دھوکا کھاتی ہے یہ تو شیش محل کے شیشے ہیں جو او پر کی سطح پر بطور فرش کے لگائے گئے ہیں اور پانی جو زور سے بہہ رہا ہے وہ تو ان شیشوں کے نیچے ہے نہ کہ یہ خود پانی ہیں تب وہ سمجھ گئی کہ میری مذہبی غلطی پر مجھے ہوشیار کیا گیا ہے اور میں نے فی الحقیقت جہالت کی راہ اختیار کر رکھی تھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی ۔ تب وہ خدائے واحد لاشریک پر ایمان لائی اور اُس کی آنکھیں کھل گئیں اور اُس نے یقین کر لیا کہ وہ طاقت عظمیٰ جس کی پرستش کرنی چاہیے وہ تو اور ہے اور میں دھو کہ میں رہی اور سطحی چیز کو معبود ٹھہرایا اور اس نبی کی تقریر کا ماحصل یہ تھا کہ دنیا ایک شیش محل ہے اور سورج اور چاند اور ستارے اور عناصر وغیرہ جو کچھ کام کر رہے ہیں ۔ یہ دراصل ان کے کام نہیں یہ تو بطور شیشوں کے ہیں بلکہ ان کے نیچے ایک طاقت مخفی ہے جو خدا ہے۔ یہ سب اس کے کام ہیں۔ اس نظارہ کو دیکھ کر بلقیس نے بچے دل سے سورج کی پوجا سے توبہ کی اور سمجھ لیا کہ وہ طاقت ہی اور ہے کہ سورج وغیرہ سے کام کراتی ہے اور یہ تو صرف شیشے ہیں ۔ یہ تو ہم نے سورج کا حال بیان کیا ایسا ہی چاند کا حال ہے ۔ جن صفات کو چاند کی طرف منسوب کیا جاتا ہے وہ دراصل خدا تعالیٰ کی صفات ہیں ۔ وہ راتیں جو خوفناک تاریکی پیدا کرتی ہیں چاند ان کو روشن کرنے والا ہے ۔ جب وہ چمکتا ہے تو فی الفور اندھیری رات کی تاریکی اُٹھ جاتی ہے۔ کبھی وہ پہلے وقت سے ہی چھپکنا شروع کرتا ہے اور کبھی کچھ تاریکی کے بعد نکلتا ہے ۔ یہ عجیب نظارہ ہوتا ہے کہ ایک طرف چاند چڑھا اور ایک طرف تاریکی کا نام و نشان نہ رہا۔ اسی طرح خدا بھی جب نہایت گندہ اور تاریک النمل : ۴۵