نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 398 of 566

نسیمِ دعوت — Page 398

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۶ نسیم دعوت پکڑ لیا ہے اور اپنے راستباز پرستاروں کے ساتھ بخیلوں کی طرح کارروائی کرتا ہے اور بار بار عزت کے بعد ان کو ذلت دیتا ہے اور تاریخ کے چکر میں ڈال کر مکروہ در مکر وہ موتوں میں ان کو ڈالتا ہے محض اس لئے کہ تا اس کی عملداری میں فرق نہ آوے۔ اس بات کا آریہ صاحبوں کو خود اقرار ہے کہ اس نے بارہا دنیا کے کل انسانوں کو نجات دے دی ہے مگر پھر کچھ مدت کے بعد اس نجات خانہ سے باہر نکال کر طرح طرح کی جونوں میں ان کو ڈال دیا ہے اب آریہ صاحبان ناراض نہ ہوں ہم ادب سے عرض کرتے ہیں اور جہاں تک ہمیں نرم الفاظ مل سکتے ہیں ان میں ہماری یہ گذارش ہے کہ اس عقیدہ پر ایک سخت اعتراض ہوتا ہے اور ہم امید نہیں کرتے کہ اس اعتراض کا کوئی آریہ صاحب صفائی سے جواب دے سکے اور اگر جواب دیں تو ہم خوشی سے سنیں گے اور اعتراض یہ ہے کہ جبکہ خود غرضی کی ضرورت کی وجہ سے پر میٹر کی یہ عادت ہے کہ وہ ۳۲ مکتی خانہ میں ہمیشہ لوگوں کو رہنے نہیں دیتا اور پھر طرح طرح کی جونوں میں ڈالتا ہے تو ان مختلف جونوں سے ترجیح بلا مرجح لازم آئے گی یعنی جو لوگ پر میشر کے سچے بھگت ہو کر نجات پاچکے ہیں اب مکتی خانہ سے باہر نکالنے کے وقت کسی کو مرد بنانا اور کسی کو عورت اور کسی کو گائے اور کسی کو بیل اور کسی کو کتا اور کسی کو سور اور کسی کو بندر اور کسی کو بھیڑیا ، اس میں خلاف عدالت طریق معلوم ہوتا ہے۔ خصوصاً جس حالت میں ہر یک مکتی پانے والا سخت امتحان کے بعد مکتی پاتا ہے اور کروڑ ہا برس تناسخ کے چکر میں رہ کر پھر کہیں اس مراد تک پہنچتا ہے تو کم سے کم اس کے لئے یہ رعایت تو ہونی چاہئے تھی کہ وہ انسان بنایا جاتا۔ یہ کیا معاملہ ہے کہ اپنا پیارا بنا کر اور اپنے قرب سے شرف بخش کر پھر آخر کار اس کو کتا یا سور بنا کر مکتی خانہ سے باہر نکال دیا گیا اور اس کے ساتھ کے اشخاص کو کتا نہ بنایا، بلکہ انسان بنایا، حالانکہ مکتی پانے کے شرائط سب نے برابر پورے کر لئے تھے پر میشر کا کسی پر احسان نہ تھا پھر کیا وجہ کہ مکتی خانہ سے نکال کر کسی کو انسان اور کسی کو کتا بنایا گیا۔ اس صورت میں نہ سز ا عدل کے طور پر ہوئی اور نہ رحمت ۔