نسیمِ دعوت — Page 397
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۵ نسیم دعوت پھر ماسوا اس کے ہم خدا تعالیٰ کے علم کا اس کی تازہ بتازہ وحی سے ہمیشہ مشاہدہ کرتے ہیں اور ہم روز دیکھتے ہیں کہ در حقیقت خدا تعالیٰ غیب دان ہے اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ہم اس کی قدرت کا بھی مشاہدہ کرتے ہیں مگر آریہ صاحبوں پر یہ دروازہ بھی بند ہے اس لئے ان کے لئے اس بات پر یقین کرنے کے لئے کوئی راہ کھلی نہیں کہ ان کا پر میشر غیب دان ہے یا قادر مطلق ہے اور نہ دید ان کو اس درجہ کے حاصل کرنے کی کوئی بشارت دیتا ہے۔ ایسا ہی آریہ صاحبان خود اقراری ہیں کہ ان کے پرمیشر کے لئے اپنے فیض الوہیت میں کمال تام حاصل نہیں کیونکہ وہ ہمیشہ ناقص طور پر لوگوں کو مکتی خانہ میں داخل کرتا ہے اور پھر کچھ مدت کے بعد نا کردہ گناہ مکتی خانہ سے باہر نکال لیتا ہے تا سلسلہ تناسخ میں کچھ فرق نہ آوے اس لئے اس کی سزا اور رحمت کا قاعدہ بھی خود غرضی کی آمیزش اپنے اندر رکھتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر میں رحمت تامہ سے کام لوں اور سب کو ہمیشہ کے لئے نجات دے دوں تو (۳۱) سلسلہ تاریخ ہمیشہ کے لئے بند ہو جائے گا تو پھر بعد میں بیکار بیٹھنا پڑے گا کیونکہ جس حالت میں روحیں محدود ہیں یعنی ان کے شمار کی ایک مقدار تک حد مقرر ہے تو اس صورت میں اگر ایک بھگت کو جو عبادت میں اپنی تمام عمر بسر کرتا ہے نجات ابدی دی جائے تو ظاہر ہے کہ جو روح نجات پاگئی وہ ہاتھ سے گئی اور تناسخ کے چکر سے آزاد ہوئی پس بالضرورت ایک دن ایسا آ جائے گا کہ سب روحیں ہمیشہ کے لئے نجات پا جائیں گی اور یہ تو خود مانا ہوا مسئلہ ہے کہ پر میشر روح پیدا کرنے پر قادر نہیں۔ پس اس صورت میں بجز اس کے کیا نتیجہ ہوسکتا ہے کہ کسی دن تمام روحوں کے دائمی مکتی پانے کے بعد پر میشر گری کا تمام سلسلہ معطل پڑ جائے اور تناسخ کے لئے ایک روح بھی اس کے ہاتھ میں نہ رہے پس اس تمام تقریر سے ثابت ہوتا ہے کہ آریہ صاحبان کا پر میشر جیسا کہ روحوں کے پیدا کرنے پر قادر نہیں ایسا ہی وہ روحوں کو نجات ابدی دینے پر بھی قادر نہیں کیونکہ اگر وہ روحوں کو نجات ابدی دے دے تو اس کا تمام سلسلہ ٹو تھا ہے اس لئے اپنی تمام عملداری کے محفوظ رکھنے کے لئے بخل کی عادت کو اس نے لازم