نسیمِ دعوت — Page 394
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۲ نسیم دعوت وجہ سے ہے پس اگر اس کو یہ بھی معلوم ہوتا کہ علاوہ جسم دار جانداروں کے خود روحوں میں بھی انواع اقسام کی قوتیں اور گن اور خوبیاں ہیں جو کبھی ان سے دور نہیں ہوتیں تو وہ ان کے لئے بھی کوئی گزشتہ جنم تجویز کرتا اور ان کو انادی قرار نہ دیتا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کسی چیز کے خواص اس سے منفک نہیں ہوتے ۔ پس فرض کے طور پر اگر انسانی روح گدھے میں آجاتی ہے تو وہ اپنے طبعی خواص کو کسی طرح چھوڑ نہیں سکتی گو اس جون میں ان خواص کو ظاہر کرے یا (۲۸) نہ کرے کیونکہ اگر کسی جون کے بدلنے سے اصلی خواص اور قوتیں روح کی قطعاً اس سے دور ہو جائیں تو پھر خود بقول آریہ صاحبان اعادہ اس کا محال ہوگا کیونکہ نیستی سے ہستی نہیں ہو سکتی جو قوت در حقیقت روح میں سے معدوم ہو گئی اس کا دوبارہ روح میں موجود ہو جانا در حقیقت نیست سے ہست ہو جانا ہے اور اگر تناسخ کے چکر میں آکر روح کی قو تیں معدوم نہیں ہوتیں تو تناسخ کا اُن پر کوئی اثر نہ ہوا۔ پس جبکہ پر میشر نے ان غیر منفک قوتوں کو تناسخ کے چکر سے باہر رکھا ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کو ان مخفی قوتوں اور خوبیوں کی خبر ہی نہیں ۔ اور نہ یہ معلوم کہ کن عملوں کے پاداش میں یہ قوتیں اور یہ گن اور خوبیاں روحوں کو ملی ہیں ۔ علاوہ اس کے اگر پر میشر کو اس بات کا کامل علم ہے کہ روح کیا چیز ہے اور اس کے خواص اور قو تیں کیا ہیں تو پھر کیوں وہ اس کے بنانے پر قادر نہیں ۔ یہ تو آریہ صاحبوں کے نزدیک مانا ہوا مسئلہ ہے کہ ارواح اپنے شمار میں محدود ہیں اور محدود وقت تک اپنا دورہ پورا کرتی ہیں پس محدود اور معلوم کے بنانے پر کیوں خدا قادر نہیں اور کس نے ان روحوں کو شمار مقررہ تک محدود کر دیا ہے اگر خدا ان کا محد دنہیں۔ اگر وہ روحیں خدا کی بنائی ہوئی نہیں تو ان کی نسبت خدا کا علم ایسا کیونکر کامل ہو سکتا ہے جیسا کہ بنانے والے کا علم ہوتا ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ بنانے والے اور غیر بنانے والے کا علم برابر نہیں ہوتا مثلاً جو لوگ اپنے ہاتھ سے کوئی صنعت بناتے ہیں جیسے وہ لوگ اس صنعت کی دقیق در دقیق کیفیتوں پر واقف ہوتے ہیں دوسرے لوگ ایسی اطلاع نہیں رکھتے اور اگر کامل طور پر اطلاع رکھتے تو بنا بھی سکتے