نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 566

نسیمِ دعوت — Page 393

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۹۱ نسیم دعوت کی موت سے تمہیں بچاؤں گا اور فرمایا کہ تیرے گھر کی چار دیواری کے لوگ جو تکبر نہیں کرتے یعنی خدا کی اطاعت سے سرکش نہیں اور پر ہیز گار ہیں میں ان سب کو بچاؤں گا اور نیز میں قادیان کو طاعون کے سخت غلبہ اور عام ہلاکت سے محفوظ رکھوں گا یعنی وہ سخت تباہی جو دوسرے دیہات کو فنا کر دے گی اس قدر قادیان میں تباہی نہیں ہوگی سو ہم نے دیکھا اور خدا تعالیٰ کی ان تمام باتوں کو مشاہدہ کیا۔ پس ہمارا خدا یہی خدا ہے جو نئی نئی قو تیں اور گن اور خاصیتیں ذرات عالم میں پیدا کرتا ہے اس سے پہلے پانسو برس تک پنجاب میں اس مہلک طاعون کا پتہ ۲۷ کے نہیں ملتا اس وقت یہ ذرات کہاں تھے۔ اب جب خدا نے پیدا کئے تو پیدا ہو گئے اور پھر ایسے وقت رخصت ہوں گے جب خدا تعالیٰ ان کو رخصت کرے گا ہمارا یہ طریق ہر ایک آریہ کے لئے ایک نشان ہوگا کہ ہم نے اس کامل خدا سے خبر پا کر ٹیکا کے انسانی حیلہ سے دست کشی کی اور بہت سے لوگ ٹیکا کرانے والے اس جہان سے گزر گئے اور ہم اب تک خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ موجود ہیں۔ پس اسی طرح خدا تعالٰی ذرات پیدا کرتا ہے جس طرح اس نے ہمارے لئے ہمارے جسم میں تریاقی ذرات پیدا کر دئیے۔ اور اسی طرح وہ خدا روح پیدا کرتا ہے جس طرح مجھ میں اُس نے وہ پاک روح پھونک دی جس سے میں زندہ ہو گیا۔ ہم صرف اس بات کے محتاج نہیں کہ وہ روح پیدا کر کے ہمارے جسم کو زندہ کرے بلکہ خود ہماری روح بھی ایک اور روح کی محتاج ہے جس سے وہ مردہ روح زندہ ہو پس ان دونوں روحوں کو خدا ہی پیدا کرتا ہے جس نے اس راز کو نہیں سمجھا وہ خدا کی قدرتوں سے بے خبر اور خدا سے غافل ہے۔ اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ خدا تعالیٰ کے علم کے بارے میں آریہ سماجیوں کا کیا عقیدہ ہے۔ واضح ہو کہ عقل سلیم اس بات کی ضرورت سمجھتی ہے کہ خدا تعالیٰ عالم الغیب ہو اور کوئی ایسا مخفی امر نہ ہو جس پر اس کا علم محیط نہ ہو لیکن آریہ صاحبوں کے عقیدہ سے یہی لازم آتا ہے کہ ان کا پر میشر ارواح اور ذرات کی مخفی در مخفی قوتوں اور خاصیتوں کا علم نہیں رکھتا کیونکہ ابھی تک اس کو اسی قدر خبر ہے کہ جو کچھ کسی انسان یا حیوان میں گن اور قوت اور خوبی ہے وہ گزشتہ اعمال کی