نسیمِ دعوت — Page 384
روحانی خزائن جلد ۱۹ ست ۳۸۲ نسیم دعوت اور تیس روپیہ لے کر حضرت عیسی کو اس نے گرفتار کرا دیا اگر یہ پیشگوئی خدا کی طرف سے ہوتی تو یہودا مرتد نہ ہوتا۔ ایسا ہی ان کا یہ بھی اعتراض ہے کہ ان کی یہ پیشگوئی کہ ابھی اس زمانہ کے لوگ زندہ ہوں گے کہ میں واپس آجاؤں گا یہ پیشگوئی بھی بڑی صفائی سے خطا گئی۔ کیونکہ انیس سو برس گزر گئے اور اس زمانہ کے لوگ مدت ہوئی کہ مرکھپ گئے لیکن وہ واپس نہیں آئے۔ غرض ان تمام باتوں سے ظاہر ہے کہ وہ ہرگز کسی بات پر قادر نہیں تھا صرف ایک عاجز انسان تھا اور انسانی ضعف اور لاعلمی اپنے اندر رکھتا تھا اور انجیل سے ظاہر ہے کہ اس کو غیب کا علم ہرگز نہیں تھا کیونکہ وہ ایک انجیر کے درخت کی طرف پھل کھانے گیا اور اس کو معلوم نہ ہوا کہ اس پر کوئی پھل نہیں ہے اور وہ خود اقرار کرتا ہے کہ قیامت کی خبر مجھے معلوم نہیں پس اگر وہ خدا ہوتا تو ضرور قیامت کا علم اس کو ہونا چاہیے تھا اسی طرح کوئی صفت الوہیت اس میں موجود نہیں تھی اور کوئی ایسی بات اس میں نہیں تھی کہ دوسروں میں نہ پائی جائے عیسائیوں کو اقرار ہے کہ وہ مر بھی گیا۔ پس کیسے بدقسمت وہ فرقہ ہے جس کا خدا مر جائے۔ یہ کہنا کہ پھر وہ زندہ ہو گیا تھا کوئی تسلی کی بات نہیں جس نے مرکز ثابت کر دیا کہ وہ مر بھی سکتا ہے اس کی زندگی کا کیا اعتبار ۔ اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ موجودہ مذہب عیسائیوں کا ہرگز خدا تعالی کی طرف سے نہیں ہے کیونکہ جس کو انہوں نے خدا قرار دیا ہے وہ کسی طرح خدا نہیں ہوسکتا۔ خدا پر ہرگز موت نہیں آسکتی اور نہ وہ علم غیب سے محروم ہو سکتا ہے۔ اب ہم اسی پیمانہ سے آریہ مذہب کو نا پنا چاہتے ہیں کہ آیا وہ بچے اور کامل اور واحد لاشریک خدا کو مانتے ہیں یا اس سے برگشتہ ہیں۔ پس واضح ہو کہ اوّل علامت خدا شناسی کی تو حید ہے یعنی خدا کو اس کی ذات میں اور صفات میں ایک ماننا اور کسی خوبی میں اس کا کوئی شریک قرار نہ دینا۔ لیکن ظاہر ہے کہ آریہ سماجی لوگ ذرہ ذرہ کو خدا تعالیٰ کی ازلیت کی صفت میں شریک قرار دیتے ہیں اور جس طرح خدا تعالیٰ اپنے وجود اور ہستی میں کسی خالق کا محتاج نہیں ا یہ اعتراض نہیں ہو سکتا کہ مسلمان بھی انسانی ارواح کو ابدی قرار دیتے ہیں کیونکہ قرآن شریف یہ نہیں سکھلاتا کہ انسانی ارواح اپنی ذات کے تقاضا سے ابدی ہیں بلکہ وہ یہ سکھلاتا ہے کہ یہ ابدیت انسانی روح کے لئے محض عطیہ الہی ہے ورنہ انسانی روح بھی دوسرے حیوانات کی روحوں کی طرح قابل فنا ہے۔ منہ سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کیسا ہونا چاہیے۔(ناشر )