نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 383 of 566

نسیمِ دعوت — Page 383

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۱ نسیم دعوت کوئی محل بھی نہیں تھا لیکن حضرت مریم پر تہمت لگائی گئی اور اس تہمت نے حضرت عیسی کی ولادت کے انجو بہ کو خاک میں ملا دیا مگر اس تہمت میں صرف یہودیوں کا قصور نہیں بلکہ خود حضرت مریم سے ایک بڑی بھاری غلطی ہوئی جس نے یہود کو تہمت کا موقعہ دیا اور وہ یہ کہ جب اس نے اپنے کشف میں فرشتہ کو دیکھا اور فرشتہ نے اس کو حاملہ ہونے کی بشارت دی تو مریم نے عمداً اپنے خواب کو چھپایا اور کسی کے پاس اس کو ظاہر نہ کیا کیونکہ اس کی ماں اور باپ دونوں نے اس کو بیت المقدس کی نذر کیا تھا تا وہ ہمیشہ تارکہ رہ کر بیت المقدس کی خدمت میں مشغول رہے اور کبھی خاوند نہ کرے اور بتول کا لقب اس کو دیا گیا اور اس نے آپ بھی یہی عہد کیا تھا کہ خاوند نہیں کرے گی اور بیت المقدس میں رہے گی ۔اب اس خواب کے دیکھنے سے اس کو یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر میں لوگوں کے پاس یہ ظاہر کرتی ہوں کہ فرشتہ نے مجھے یہ بشارت دی ہے کہ تیرے لڑکا پیدا ہوگا تو لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ خاوند کرنا چاہتی ہے اس لئے وہ اس خواب کو اندر ہی اندر دب گئی لیکن وہ خواب سچی تھی اور ساتھ ہی اس کے حمل ہو گیا جس سے مریم مدت تک بے خبر رہی جب پانچواں مہینہ عمل پر گزرا تب یہ چر چا پھیل گیا کہ مریم کو حمل ہے اور اس وقت لوگوں کو خواب سنادی لیکن اُس وقت سنانا بے فائدہ تھا۔ آخر بزرگوں نے پردہ پوشی کے طور پر یوسف نام ایک شخص سے اس کا نکاح کر دیا اس طرح پر یہ نشان مکدر ہو گیا۔ رہی حضرت مسیح کی پیشگوئیاں پس وہ تو ایسی ہیں کہ اب تک یہودی اس پر ہنسی کرتے ہیں کیونکہ ایسی باتیں کہ زلزلے آئیں گے قحط پڑیں گے لڑائیاں ہوں گی عادت میں داخل ہیں اور ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں اور نیز یہودی کہتے ہیں کہ ان کی کوئی بات جو پیشگوئی کے رنگ میں تھی بچی نہیں (۱۸۶) نکلی چنانچہ یہ اعتراض ان کے اب تک لاینحل چلے آتے ہیں کہ حضرت عیسی نے باراں حواریوں کو جوان کے سامنے موجود تھے بہشت کا وعدہ دیا تھا بلکہ ان کے لئے بارہ تخت تجویز کئے تھے لیکن آخر کار باراں میں سے گیارہ رہ گئے اور بارواں حواری جو بیہودا اسکر یولی تھا وہ مرتد ہوگیا