نسیمِ دعوت — Page 382
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۸۰ نسیم دعوت مسیح کی پیدائش بھی کوئی ایسا امر نہیں ہے جس سے ان کی خدائی مستنبط ہو سکے۔ اسی دھو کہ کے دور کرنے کے لئے قرآن شریف اور انجیل میں حضرت عیسی اور بیٹی کی ولادت کا قصہ ایک ہی جگہ بیان کیا گیا ہے تا پڑھنے والا سمجھ لے کہ دونوں ولا دتیں اگر چہ بطور خارق عادت ہیں لیکن ان سے کوئی خدا نہیں بن سکتا ورنہ چاہیے کہ بیٹی بھی جس کا عیسائی یوحنا نام رکھتے ہیں خدا ہو بلکہ یہ دونوں امراس بات کی طرف اشارہ تھا کہ نبوت اسرائیلی خاندان میں سے جاتی رہے گی یعنی جبکہ یسوع مسیح کا باپ بنی اسرائیل میں سے نہ ہوا اور بیٹی کی ماں اور باپ اس لائق نہ ٹھہرے کہ اپنے نطفہ سے بچہ پیدا کرسکیں تو یہ دونوں بنی اسرائیکی سلسلہ سے خارج ہو گئے اور یہ آئندہ ارادہ الہی کے لئے ایک اشارہ قرار پا گیا کہ وہ نبوت کو دوسرے خاندان میں منتقل کرے گا۔ ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کا کوئی اسرائیلی باپ نہیں ہے پس وہ بنی اسرائیل میں سے کیونکر ہوسکتا ہے لہذا اس کا وجود اسرائیلی سلسلہ کے دائگی نبوت کی نفی کرتا ہے ایسا ہی یوحنا یعنی بیٹی اپنے ماں باپ کے قومی میں سے نہیں ہے سو وہ بھی اسی کی طرف اشارہ ہے۔ اس تمام تحقیق سے ظاہر ہے کہ مسیح کے کسی معجزہ یا طرز ولادت میں کوئی ایسا اعجوبہ نہیں کہ وہ اس کی خدائی پر دلالت کرے اسی امر کی طرف اشارہ کرنے کے لئے خدا تعالیٰ نے مسیح کی ولادت کے ذکر کے ساتھ بیٹی کی ولادت کا ذکر کر دیا تا معلوم ہو کہ جیسا کہ بیٹی کی خارق عادت ولادت ان کو انسان ہونے سے باہر نہیں لے جاتی ایسا ہی مسیح ابن مریم کی ولادت اس کو خدا نہیں بناتی ۔ یہ تو ظاہر ہے کہ یوحنا کی ولادت حضرت عیسی کی ولادت سے کوئی کم عجیب تر نہیں بلکہ حضرت عیسی میں صرف باپ کی طرف میں ایک خارق عادت امر ہے اور حضرت بیٹی میں ماں اور باپ دونوں کی طرف میں خارق عادت امر ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ حضرت بیٹی کی پیدائش کا نشان بہت صاف رہا ہے کیونکہ ان کی ماں پر کوئی ناجائز تہمت نہیں لگائی گئی اور بوجہ اس کے کہ وہ بانجھ تھی تہمت کا