نسیمِ دعوت — Page 380
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۸ نسیم دعوت نیا جسم آ جاتا ہے مگر خدا کے گیارہ جسم اس سے الگ ہو جائیں اس میں بیشک خدا کی ہتک ہے ہاں جیسا کہ چاروں روحوں کے عقیدہ میں ایک راز تسلیم کیا گیا ہے اگر اس جگہ بھی یہی جواب دیا جائے کہ اس میں بھی کوئی راز ہے تو پھر بحث کو ختم کرنا پڑتا ہے۔ مگر بار بار راز کا بہانہ پیش کرنا یہ ایک بناوٹ اور کمزوری کی نشانی ہے۔ پھر دوسری تعجب یہ ہے کہ اس تمہیں کا نام تثلیث کیوں رکھا گیا ہے جبکہ بموجب عیسائی عقیدہ کے چاروں روحیں مسیح کے جسم میں ابدی اور غیر فانی ہیں اور ہمیشہ رہیں گی اور انسانی (۵) روح بھی باعث غیر فانی ہونے کے اس مجموعہ سے بھی الگ نہیں ہوگی اور نہ کبھی جسم الگ ہوگا تو پھر یہ تو میں ہوئی نہ تثلیث۔ اب ظاہر ہے کہ واضعانِ تثلیث سے یہ ایک بڑی ہی غلطی ہوئی ہے جو انہوں نے تخمیس کو تثلیث سمجھ لیا مگر اب بھی یہ غلطی درست ہو سکتی ہے اور جیسا کہ گذشتہ دنوں میں تثلیث کے لفظ کی نسبت ثالوث تجویز کیا گیا تھا اب بجائے ثالوث کے تخمیس تجویز ہوسکتی ہے غلطی کی اصلاح ضروری ہے مگر افسوس کہ اس پانچ پہلو والے خدا کی ۱۵ کچھ نہ کچھ مرمت ہی ہوتی رہتی ہے۔ اب خلاصہ کلام یہ کہ عیسائی مذہب توحید سے تہی دست اور محروم ہے بلکہ ان لوگوں نے بچے خدا سے منہ پھیر کر ایک نیا خدا اپنے لئے بنایا ہے جو ایک اسرائیلی عورت کا بیٹا ہے مگر کیا یہ نیا خدا ان کا قادر ہے جیسا کہ اصلی خدا قادر ہے۔ اس بات کے فیصلہ کے لئے خود اس کی سرگذشت گواہ ہے کیونکہ اگر وہ قادر ہوتا تو یہودیوں کے ہاتھ سے ماریں نہ کھاتا ، رومی سلطنت کی حوالات میں نہ دیا جاتا اور صلیب پر کھینچا نہ جاتا۔ اور جب یہودیوں نے کہا تھا کہ صلیب پر سے خود بخود اتر آ ہم ابھی ایمان لے آئیں گے اُس وقت اتر آتا لیکن اس نے کسی موقعہ پر اپنی قدرت نہیں دکھلائی۔ رہے اس کے معجزات سو واضح ہو کہ اس کے معجزات دوسرے اکثر نبیوں کی نسبت بہت ہی کم ہیں مثلاً اگر کوئی عیسائی ایلیا نبی کے معجزات سے جو بائبل میں مفصل مذکور ہیں