نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 376 of 566

نسیمِ دعوت — Page 376

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۴ نسیم دعوت قانون قدرت کے مخالف پڑی ہوا اور نہ کوئی ایسی تعلیم ہو جس کی پابندی غیر ممکن یا منتج خطرات ہو اور نہ کوئی ضروری تعلیم جو مفاسد کے روکنے کے لئے اہم ہے ترک کی گئی ہو اور نیز یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا وہ تعلیم ایسے احکام سکھلاتی ہے یا نہیں کہ جو خدا کو عظیم الشان محسن قرار دے کر بندہ کا رشتہ محبت اس سے محکم کرتے ہوں اور تاریکی سے نور کی طرف لے جاتے ہوں اور غفلت سے حضور اور یادداشت کی طرف کھینچتے ہوں۔ (۳) تیسرے طالب حق کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ وہ اس مذہب کو پسند کرے جس کا خدا ایک فرضی خدا نہ ہو جو محض قصوں اور کہانیوں کے سہارے سے مانا گیا ہو اور ایسا نہ ہو کہ صرف ایک مردہ سے مشابہت رکھتا ہو کیونکہ اگر ایک مذہب کا خدا صرف ایک مُردہ سے مشابہ ہے جس کا قبول کرنا محض اپنی خوش عقیدگی کی وجہ سے ہے نہ اس وجہ سے کہ اس نے اپنے تئیں آپ ظاہر کیا ہے تو ایسے خدا کا مانا گویا اس پر احسان کرنا ہے اور جس خدا کی طاقتیں کچھ محسوس نہ ہوں اور اپنے زندہ ہونے کے علامات وہ آپ ظاہر نہ کرے اس پر ایمان لانا بے فائدہ ہے اور ایسا خدا انسان کو پاک زندگی بخش نہیں سکتا اور نہ شبہات کی تاریکی سے باہر نکال سکتا ہے اور ایک مُردہ پر میشر سے ایک زندہ بیل بہتر ہے جس سے کاشتکاری کر سکتے ہیں ۔ پس اگر ایک شخص بے ایمانی اور دنیا پرستی پر جھکا ہوا نہ ہو تو وہ زندہ خدا کو ڈھونڈے گا تا اس کا نفس پاک اور روشن ہو جائے اور کسی ایسے مذہب پر راضی نہیں ہو گا جس میں زندہ خدا اپنا جلوہ قدرت نہیں دکھلاتا اور اپنے جلال کی بھری ہوئی آواز سے تسلی نہیں بخشا۔ یہ تین ضروری امر ہیں جو تبدیل مذہب کرنے والے کے لئے قابلِ غور ہیں پس اگر کوئی شخص کسی مذہب کو ان تین معیاروں کے رُو سے دوسرے مذاہب پر فائق اور غالب پاوے تو اُس کا فرض ہوگا کہ ایسے مذہب کو اختیار کرے اور اس قدر تحقیق کے لئے نہ کسی بڑے پنڈت بنے کی حاجت ہے اور نہ کسی بڑے پادری بنے کی ضرورت ہے اور خدا نے جیسا کہ جسمانی زندگی کے لئے جن جن چیزوں کی حاجت ہے جیسے پانی، ہوا، آگ اور خوردنی چیز ہیں وہ ان کے لئے