نسیمِ دعوت

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 566

نسیمِ دعوت — Page 374

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۳۷۲ نسیم دعوت بموجب حال کی مردم شماری کے پنجاب میں آریہ مت والے مرد نو ہزار سے زیادہ نہیں اور اس قدر جماعت آریہ میں شاید ایک دو پنڈت ہوں یا نہ ہوں باقی سب عوام ہندو ہیں جو محض چند باتیں سن کر آریہ بن گئے ہیں اور اپنے قدیم مذہب سناتن دھرم کو چھوڑ دیا ہے اور جیسا کہ آریہ سماجی لوگ مسلمان ہونے والے آریوں کا نام برہشٹ اور ملیچھ رکھتے ہیں یہی نام سناتن دھرم کی طرف سے ان کو ملتا ہے اور مذہب سے ان کو خارج سمجھتے ہیں اور وید کے منکر قرار دیتے ہیں پھر با وجود اس قدر مخالفت شدید اور اختلاف عقائد کے جو سناتن دھرم اور آریہ سماجیوں میں اظهر من الشمس ہے ایک جاہل سے جاہل سناتن دھرم والا جب آریہ بننے کے لئے آتا ہے تو کوئی اس کو نہیں کہتا کہ اول چاروں وید پڑھ لے بلکہ اس کا آریہ سماجی بننا غنیمت سمجھتے ہیں خاص کر اگر کوئی دولت مند سا ہو کا ر ہو گو کیسا ہی جاہل ہو تو پھر کیا کہنا ہے ایک شکار ہاتھ آ گیا اس کو کون چھوڑے بھلا بتلائیے آپ کے لالہ بڑھامل صاحب کتنے وید پڑھے ہوئے ہیں جو سناتن دھرم چھوڑ کر آریہ بن گئے ۔ ایسا ہی دوسرے لالہ صاحبان جو انہیں کے بھائی بند ہیں اپنے اپنے گریبانوں میں منہ ڈال کر سوچیں کہ ان کو دید دانی میں کیا کیا کمالات حاصل ہیں ۔ پس اس صورت میں ظاہر ہے کہ جو اعتراض نومسلم آریوں پر کیا جاتا ہے وہی در اصل آریوں پر بھی ہوتا ہے مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جو آر یہ ہندو مسلمان ہوتا ہے چونکہ اس کو پہلے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو بہت سے دشمنوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا اس لئے طبعا وہ اسی وقت مسلمان ہوتا ہے جب وہ اپنے دل میں حق اور باطل کا فیصلہ کر لیتا ہے۔ اور یہ فیصلہ چاروں وید پڑھنے پر منحصر نہیں ورنہ تبدیل مذہب کا دروازہ ہی بند ہو جائے اور نیز اس صورت میں یہ بھی لازم آتا ہے کہ آریہ سماج والے بجز ایک دو ویددان پنڈتوں کے 10 جو اُن میں ہوں باقی سب ہندوؤں کو سناتن دھرم کی طرف واپس کر دیں اور ان کو ہدایت کر دیں کہ جب تم دید پڑھ کر آؤ گے تب تمہیں آریہ سماج میں داخل کیا جاوے گا پہلے نہیں۔