نجم الہدیٰ — Page 65
روحانی خزائن جلد ۱۴ نجم الهدى الثبور والويل، وتُدفع إليهم زمع الناس | کھڑی ہے اور کمینہ طبع آدمی خس و خاشاک کی كغثاء السيل۔ وما أقول أنهم يُنصرون | طرح ان کی طرف کھینچے جا رہے ہیں ۔ میں یہ من السلطنة أو يُواسون من أيادى نہیں کہتا کہ سلطنت برطانیہ کی طرف سے ان کو مدد ملتی ہے یا یہ سلطنت مال کے ساتھ ان کی | الدولة، بل الدولة البرطانية سوت غم خواری کرتی ہے بلکہ دولت برطانیہ نے اپنی رعاياها في الحرّية، وما غادرت دقيقة | تمام رعیت کو آزادی میں برابر رکھا ہے اور کوئی من دقائق النصفة۔ وكل فرقة نالت دقیقہ انصاف کا اٹھا نہیں رکھا اور ہر ایک فرقہ غاية رجائها في أمور الملة، وما ضُيّق امور مذہب میں اپنی انتہائی مراد کو پہنچ گیا ہے على أحد كأيام الخالصة۔ واسترحنا اور سکھوں کے ایام کی طرح کوئی تنگی نہیں اور ہم مذ علقنا بأهدابها، فندعو لها | اس وقت سے کہ اس کا دامن پکڑا آرام میں ہیں اور اس کے لئے اور اس کے ارکان کے ولأركانها ولأربابها۔ وأما القسوس | لئے دعا کرتے ہیں ۔ مگر پادری لوگ اس دولت فلا يأتيهم من هذه الدولة شيء يُعتد به سے کوئی خاص امداد نہیں پاتے اور ان کی مالی من مال الإمدادات، بل اجتمع شملهم جمعیت کا سبب یہ ہے کہ قوم کے چندہ میں سے بما أنهم قبضوا من قومهم كثيرا من بہت سا روپیہ ان کے پاس جمع ہے اور ہر ایک الصلاة ونصُّوا الإحالات، وما برحوا وعده ایفا ہو کر نقدی ان کے پاس اکٹھی ہوتی و ہائی جان ستان است و سفیهان پست نژاد چون خس و خاشاک ہوئی انها کشان میروند - نمی گویم سلطنہ برطانیه پشت و پناه انها بوده یا از عطائی مال و نوال چاره کار انها را می نماید - حاشا و کلا بل دوله بر طانیہ جمیع رعایا را از جهت تربیت و آزادی با دیده مساوات می بیند و در این باب کمال نصفت و دادگری را مرعی داشته است چنانچه همه ملل در زیر ظل رافت وی بر منتہائے آرزوئی خویش رسیده اند و چون عہد نحوست مهد خالصہ سکھ پیچ نفسی عرضه بلاء مزاحمت نیست و از وقتی که دست بد امانش زده ایم براحت بسر می بریم و جہت وے وارکان دے دعا می کنیم ۔ اما کشیشان مخصوصاً اعانه از دوله برطانیه بایشان نرسد۔ وسبب فراهم آمدن این مبالغے گزاف آنکه جمیع ملت توزیعات بدیشاں میدہندو ہر کسے ہر چہ وعده با نها کند ایفائی آنرا بر خود لازم داند