نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 550

نجم الہدیٰ — Page 52

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۵۲ نجم الهدى ولم يترك کــالــمیـخـار۔ وقال وفات دی اور زیادہ دیر تک زندہ نہ رکھا اور کذالک لئلا يبقى منازع فیک ولا اُس نے مجھے کہا کہ ایسا ہی کرنا چاہیے تھا تا تجھے میں خصومت کرنے والے باقی نہ رہیں اور ان يضرك إلحاح الأغيار۔ ثم اقتادنی کا الحاح تجھ کو ضرر نہ کرے ۔ پھر میرے رب إلى بيت العزة والاختيار، وما كان نے مجھے عزت اور برگزیدگی کے گھر کی طرف کھینچا اور مجھے اس بات کا علم نہ تھا کہ وہ مجھے لى علم بـأنـه يـجـعـلنـي المسيح | مسیح موعود بنا دے گا اور اپنے عہد مجھ میں الموعود، ويتم في نفسى العهود پورے کرے گا اور میں اس بات کو دوست وكنت أحب أن أترَكَ في زاوية ركھتا تھا کہ گمنامی کے گوشہ میں چھوڑ جاؤں اور الخمول، وكانت لذتى كلها فى ميرى تمام لذت پوشیدہ اور گم رہنے میں تھی الاختفاء والأفول، لا أبغى شهرة میں دنیا اور دین کی شہرت کو نہیں چاہتا تھا اور میں ہمیشہ اپنی کوشش کی اونٹنی اسی طرف چلاتا الدنيا والدين۔ ولم أزل أنص عنسی گیا کہ میں فانیوں کی طرح پوشیدہ رہوں إلى مكاتمة كالفانين۔ فغلب على أمر پس خدا کے حکم نے میرے پر غلبہ کیا اور الله العلام، ورفع مكانتى وأمرني أن میرے مرتبہ کو بلند کیا اور مجھے دعوت مخلوق و تا دیر باز زنده شان نگذاشت و فرمود بمچنین می باید تا با تو نزاع کننده نماند و خصومت شاں ترا آزارے نرساند - باز خدا مرا بسوئے خانہ عزت و برگزیدگی بکشید و من هرگز گمان نداشتم که مرا مسیح موعود دیگر داند و عهد خود را در نفس من با انجام برساند - و من گنج گمنامی و تنہا کی را بسیار دوست میداشتم ۔ واز میں تنہائی و پنہانی لذتے می یافتم ۔ شہرت دین و دنیا را ہرگز خواستاری نمیکردم و هر چه می توانستم خود را چون فانیان پوشیده از مردم می داشتم پس امر خدا بر من غالب آمد و مرتبه مرا بلند کرد و فرمود تا برائے دعوت خلق بر خیزم و