نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 43 of 550

نجم الہدیٰ — Page 43

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۳ نجم الهدى للإسلام، حتى بلغوا دين الله إلى اٹھا نہ رکھا یہاں تک کہ دین کو فارس اور چین فارس والصين والروم والشام اور روم اور شام تک پہنچا دیا اور جہاں جہاں کفر ووصلوا إلى كُلّ ما بسط الكفر نے اپنا بازو پھیلا رکھا تھا اور شرک نے اپنی تلوار کھینچ رکھی تھی وہیں پہنچے ۔ انہوں نے موت جناحه، ووافوا كُلَّ ما شهر الشرك سلاحه، وما ردّوا وجوههم عن کے سامنے سے منہ نہ پھیرا اور ایک بالشت بھی پیچھے نہ ہٹے اگر چہ کا ردوں سے ٹکڑے ٹکڑے مواجهة الرّدَى، وما تأخروا شبرا وإن قطعـوا بـالـمـدى۔ وكانوا عند کئے گئے وہ لوگ جنگ کے وقتوں میں اپنی قدم گاہوں پر استوار اور قائم رہتے تھے اور الحرب لمواضعهم ملازمون، وإلى خدا کیلئے موت کی طرف دوڑتے تھے ۔ وہ ایک الـمـوت لـلـه حــافــدون ۔ إنهم قوم قوم ہے جنہوں نے کبھی جنگ کے میدانوں سے ما تخلّفوا في مواطن المبارات، تختلف نہ کیا اور زمین کی انتہائی آبادی وبدروا ضاربين في الأرض إلى منتهى تک زمین پر قدم مارتے ہوئے پہنچے ۔ اُن العمارات، وقد عُجم عود فراستهم، کی عقلیں آزمائی گئیں ۔ اور ملک داری کی وبلى عصا سياستهم، فوجدوا في باقتیں جانچی گئیں ۔ سو وہ ہر ایک امر میں از کوششہائے خود فرو نگذاشتند تا آنکه اسلام را در بلاد فارس و چین و روم و شام برسانیدند ۔ و ہر جا کفر پر و بال گسترده و شرک تیغ آمیخته بود برسیدند - در برابری مرگ ابدأ پشت بر نه گردانیدند و یک بالشت هم پس نگردیدند اگر چه به کا رد با پاره پاره شدند در هنگام جنگ بر پا با استوار می بودند و خدا را بسوئے مرگ میدویدند - مرد مائیکہ ہرگز در میدان جنگ پشت ندادند و تا به پایان آبادانی زمین در راه خدا پائی خاکی کردند - خرد ۔ و بینش شان در کوره امتحان انداخته و دانش سیاست ملکی شان آزموده شد ولی از هر باب