نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 42 of 550

نجم الہدیٰ — Page 42

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۴۲ نجم الهدى ولمعت فى أساريرهم سرائر حب کے نور چمک اٹھے اور اُن کے پیشانی کے نقشوں میں محبت مولی کے بھید ایک چمکیلی المولى، وعلت هممهم للخدمات صورت میں نمودار ہو گئے اور اُن کی ہمتیں دینی الدينية، فشرّقوا وغربوا للدعوة خدمات کیلئے بلند ہو گئیں اور وہ دعوت اسلام الإسلامية، وأيمنوا وأشأموا لإشاعة کے لئے ممالک شرقیہ اور مغربیہ تک پہنچے اور الملة المحمدية۔ وأنارت عقولهم | في العلوم الإلهية، ودقت أحلامهم ملت محمدیہ کی اشاعت کیلئے بلاد جنوبیہ اور شمالیہ کی طرف انہوں نے سفر کیا اور ان کی عقلیں علوم الہیہ میں منور ہوئیں اور اُن کے قوائے فکر یہ لفهم الأسرار الربانية۔ وحُبّب اليهم | اسرار ربانیہ کے سمجھنے کیلئے باریک ہو گئیں اور الصالحات، وكُره المعاصی نیک با تیں بالطبع ان کو پیاری لگنے لگیں اور بد والسيئات۔ وأُنزلوا في خيام الرشد باتوں اور گناہوں سے بالطبع ان کو نفرت پیدا ہوئی اور رشد اور سعادت کے خیموں میں وہ والسعادة بعد ما كانوا يعكفون اتارے گئے بعد اس کے جو بتوں پر پرستش على الأصنام للعبادة، وما آلوا کیلئے سرنگوں تھے اور انہوں نے اپنی کوششوں في جهدهم و مـا تـرکـوا جدهم اور تگ و دو میں کوئی دقیقہ اسلام کے لئے پرهیزگاری درخشید و از نقشہائے پیشانی شان راز محبت مولی بخوبی آشکار گردید و ہمت شان برائے خدمت دین بلند شد۔ پس جهت دعوت اسلام شرق و غرب و جنوب و شمال همه اطراف را پے سپار کردند عقل شان در فهم علوم الهیه روشن گردید وقوت فکری در شناخت را از خدائی بار یک شد نیکی بابایشان دوست داشته و بدی با در نزدشان زشت و بد داشته شده و در خیمہ ہائے رشد و سعادت فروکش کرده شدند بعد از انکه بر پرستش بتان سرنگون افتاده بودند و برائی اسلام و قیقه