نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 550

نجم الہدیٰ — Page 32

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۳۲ نجم الهدى وأقبل عليهم بالتفضلات الأزلية۔ اور عنایات از لیہ کے ساتھ اُس کی طرف توجہ کی وإن الصحابة أُخذوا بهذا الأثر من اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ کو سوچ کہ صحابہ زمین کے نیچے سے لئے گئے اور تحت الثرى ورفعوا إلى سمك آسمان کی بلندی تک پہنچائے گئے اور درجہ بدرجہ السماء ، ونقلوا درجة بعد درجة برگزیدگی کے مقام تک منتقل کئے گئے ۔ اور إلى مقام الاجتباء والاصطفاء۔ وقد انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کو چارپایوں وجدهم النبي كعجماوات لا یعلمون کی مانند پایا کہ وہ توحید اور پر ہیز گاری میں سے شيئا من تهذيب وتقاة ولا يُفرّقون کچھ بھی نہیں جانتے تھے اور نیکی بدی میں تمیز نہیں بين صلاح وهنات، فعلمهم أولا کر سکتے تھے ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آداب الإنسانية بالاستيفاء ، نے ان کو انسانیت کے آداب سکھلائے۔ اور تمدن اور بود و باش کی راہوں پر مفصل مطلع کیا وفصل لهم طرق التمدن والثواء اور اُن کے لئے پاکیزگی کے طریقوں اور والطهارة والاستنان والسواک دانتوں کو صاف کرنا اور مسواک کرنا اور خلال والخلالة بعد الضحاء والعشاء، بعد طعام چاشت و طعام شب کرنا اور بول والاستنتار عند البول والاستبراء کر کے جلدی سے نہ اٹھنا بلکہ بقیہ قطرات و باران رحمت و فضل بے اندازہ بر سرش بارید ۔ اثر آں قوه قدسیه را بدقت نظر یہ ہیں کہ صحابہ را از زیر طبقات زمین بکشید و بر اوج فلک رسانید و بآخر تدریجاً خلعت برگزیدگی براوشان پوشانید ۔ آں نبی کریم اوشاں را چوں مواشی دید که از راه توحید و پر ہیز گاری پیچ آگاهی نداشتند و نیک را از بد نمی شناختند ۔ لہٰذا اولا بایشان آداب انسانیت چنانچه شاید بیاموخت و طریق تمدن و معاشرت مفصلا تعلیم فرمود از قبیل طهارت و پاک کردن دندان و مسواک کردن و بعد طعام چاشت و شب خلال کردن ـ و پس از بول زود بر پا شدن بل بگذاشتن تا بقیه قطره با نجوشد و با صفائی هر چه