نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 25 of 550

نجم الہدیٰ — Page 25

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۵ نجم الهدى زايلوا طرق أخلاق الإنسيّة، وصاروا انسانی خُلقوں سے دور جا پڑے اور وحشی كالوحوش البرية، حتى أكلوا لحم جانوروں کی طرح ہو گئے یہاں تک کہ بیٹوں اور بھائیوں کے گوشت کھائے اور ہر ایک مُردار کو الأبناء والإخوان، وخضموا كل بتمامتر حرص کھایا ۔ اور خون کو یوں پیا جیسا کہ جيفة وشربوا الدماء كالألبان، وجاوزوا الحد فى المنكرات وأنواع | الشقا، وفعلوا ما شاء واكاوابد الفلا، ولم يزل شعراؤهم يلوكون دودھ پیا جاتا ہے اور بدکاریوں اور خدا تعالیٰ کی نافرمانیوں میں حد سے گزر گئے اور جنگلی حیوانوں کی طرح جو کچھ چاہا کیا اور ہمیشہ اُن کے شاعر دریدہ دہنی سے عورتوں کی بے عزتی کرتے اور | أعراض النساء ، وأمراء هم يداومون ان کے امراء کا شغل قمار بازی اور شراب اور على الخمر والقمار والجفاء۔ وكانوا دی تھی اور جب بخل کرتے تھے تو بھائیوں اور إذا بـخـلـوا يتلفون حقوق الإخوان تیموں اور غریبوں کا حق تلف کر دیتے تھے اور واليتامى والضعفاء ، وإذا أنفقوا جب مالوں کو خرچ کرتے تھے تو عیاشی اور فضول فينفقون أموالهم فى البطر والإسراف خرچی اور زنا کاری اور نفسانی ہوا اور ہوس والـريـاء واستيفاء الأهواء۔ وكانوا کے پوری کرنے میں خرچ کرتے اور نفس پرستی واز اخلاق نیک بمراحل دور افتادہ ۔ سراپا چوں در و دام گردیده گوشت برادران و پسران را گوارا و نوش جان دیدہ ۔ ہر گونہ مرداری را باز بسیار میخوردند و خون را چون شیر می آشامیدند - در بدکردار یها و سیاه کاریها پا از پایان بیرون کشیده بودند و چون دوان بیشه هر چه خواستند کردند ۔ و شاعران انها از ہرزہ سرائی و دریده دهنی در پوستین زنان می افتادند و توانگران و دارندگان بر قمار بازی و می خواری و بدی ستیزه کاری سر فرود آورده بودند - اگر بخل ورزیدند تلف ساختن حقوق برادران و یتیمان و کمتر وران را هموی نہ گرفتند ۔ وچوں برصرف مال دست کشادند داد تن پروری و کامرانی و اسراف و ریاء در دادند ۔ و بچہ ہارا