نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 26 of 550

نجم الہدیٰ — Page 26

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۶ نجم الهدى يقتلون أولادهم خوفا من الإملاق کو انتہا تک پہنچاتے تھے۔ اور وہ لوگ اپنی اولاد کو درویشی اور تنگ دستی کے خوف سے قتل کر دیا والخصاصة، ويقتلون بناتهم عارًا من أن يكون لهم ختنه كاء القبيلة ۔ من شر حتى کرتے تھے اور بیٹیوں کو اس عار سے قتل کرتے تھے کہ تاشر کاء میں سے ان کا کوئی داماد نہ ہو اور و کذلک کانوا يجمعون في أنفسهم | اسی طرح انہوں نے اپنے اندر اخلاق ردیہ أخلاقا رديّة، وخصالا رذيلة مهلكة، اور رذیل خصلتیں جمع کر رکھی تھیں ۔ یہاں تک كثر فيهم حزب المقرفین کہ اُن میں ایک جماعت بداصلوں اور الزنيمين، وعاهرات متخذات أخدانا ولد الحراموں کی ہو گئی تھی اور عورتیں زانیہ والزانين۔ والذين كانوا يُخالفون آثار | آشناؤں سے تعلق رکھنے والیں اور مرد زانی پیدا ہو گئے تھے اور جو لوگ اُن کی راہ کے مخالف مهيعهم فكانوا يخافون عند نصحهم على عرضهم ونفسهم وأهل | ہوتے تھے وہ نصیحت دینے کے وقت اپنی عزت اور جان اور گھر کی نسبت خوف کرتے تھے ۔ غرض مربعهم۔ فالحاصل أن العرب كان عرب کے لوگ ایک ایسی قوم تھی جن کو کبھی قوم لم يواجهوا فى مدة عمرهم تـ تلقاء واعظوں کے وعظ سننے کا اتفاق نہ ہوا اور نہیں الواعظين، وكانوا لايدرون جانتے تھے کہ پر ہیز گاری اور پر ہیز گاروں کی از بیم گرسنگی و ناداری می کشند - و دختران را از تنگ آن که نباید از دودمان کسی بدامادی سر بلندی بکند بر خاک بلاک می نشاندند و همچنین روشهائی نا پسندیده و خو ہائی نکوهیده در خود گرد آورده بودند تا اینکه در انها گرو ہے بسیار از حرام زادہ ہائے بدنژاد و زنان لولی نهاد که در نهان بآشنایان در می آمیختند پدیدار گشتند و آنانکه خلاف راه آن بدسرشتان رفتار می کردند همواره وقت اندرز و پند بر جان و مال و اہل و آبرو می لرزیدند ۔ خلاصہ عرب گروهی بودند که هرگز اتفاق نیفتاده بود پند اندرزگوئی را گوش بکنند و بکلی بے خبر