نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 550

نجم الہدیٰ — Page 24

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۲۴ نجم الهدى بالإعزاز والإكرام، وهو مستريح أن كو پہنا دی ہے اور خدا عرش پر آرام کر رہا على عرشه و فارغ من هذه المهام ہے اور ان بکھیڑوں سے الگ ہے اور اُن کے بت اُن کی شفاعت کرتے اور دردوں وهم يشفعون عبدتهم وينجون من | الآلام، ويُقربون إلى الله زلفى سے نجات دیتے ہیں اور خدا کا قرب اُن کے ذریعہ سے میسر آتا ہے اور سرگرداں لوگوں کو ويُعطون مقصد المستهام۔ وكانوا مع | ان کے مقاصد تک پہنچاتے ہیں اور باوجود تلك العقائد يعملون السيئات وبها ان عقیدوں کے پھر بدکاریاں کرتے تھے يتفاخرون، ويزنون ويسرقون اور ان کے ساتھ فخر کرتے تھے اور زنا ويأكلون أموال اليتامى من غير الحق کرتے اور چوری کرتے اور یتیموں کا ناحق ويــظــلـمـون، ويسـفـكـون الدماء مال کھاتے اور ظلم کرتے اور خون کرتے وينهبون، ويقتلون نفوسا زكيّة ولا اور لوگوں کو لوٹتے اور بچوں کو قتل کرتے اور يخافون۔ وما كان جريمة إلا فعلوها، ذره نہ ڈرتے اور کوئی گناہ نہ تھا جو انہوں وما من آلهة باطلة إلا عبدوها ۔ نے نہ کیا اور کوئی جھوٹا معبود نہ تھا جس کی پوجا أضاعوا آداب الإنسانية، و نہ کی ۔ انسانیت کے ادبوں کو ضائع کیا اور و خودش آرام و بیکار دست بر زنخ بالائی عرش قرار گرفته دامن بر این همه دردسر با برافشاند ه۔ بت با هر چه خواهند کنند شفیع می شوند و از هر رنج والم رستگاری می بخشند - نزد یک خدا می سازند و آشفته حالان نامراد را بر مراد می رسانند و با این معتقدات ہر نوع کار بد می کردند و ناز بران داشتند - زنا می کردند - دزدی می کردند و بیداد می کردند و بناحق مال یتیمان می خوردند و خون ناحق می ریختند و راه ها می بریدند و بچه ها را می کشتند و هیچ باک و هراس نداشتند ۔ گناہی نہ که در کردن آن بر کمال نه رسیدند و معبودی باطل نه که آنرانه پرستیدند - آداب انسانی از دست داده