نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 139 of 550

نجم الہدیٰ — Page 139

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۳۹ نجم الهدى غاب الأطباء من شقوتي۔ ثم جاءہ بھی حاضر نہیں ۔ پھر ایک مدت کے بعد الطبيب بعد تمادى الأوقات۔ وما ڈاکٹر آیا اور اپنا عمل کیا مگر بے سود تھا اور بقى فيه إلا رمق الحياة۔ فعمل أعمالا ڈاکٹر نے اشارہ کر دیا کہ جانبری مشکل ہے ۔ وما زاد إلا نكالا ، وقال الموت شمير پھر جب آدھی رات گزرگئی تو لیکھرام نے والبرء عسير، وانقطع الرجاء وزاد | موت کا پیالہ پی لیا۔ البرحاء حتى إذا جثم ليلة هذه الواقعة، فجعل الحليلة ثيبا، وشرب | كأس المنية، ووقع في أحواض غثيم، ورأى جزاء ظلم وضيم وكذالك يجزى الله الظالمين۔ فارتفعت الأصوات من البكاء ، وبلغ الصراخ إلى السماء ، وسمعتُ أن اور میں نے سنا ہے کہ مرتے وقت اس کی عينــاه اسـتـعبرت في آخر حينه بما آنکھیں پُر آب تھیں کیونکہ خدا کی پیشگوئی کا رأى آية الحق بعين يقينه۔ و أصبح پورا ہونا اس کو یاد آیا ۔ اور اس کی موت کے قومه قد طارت حواسهم، وضل بعد اس کی قوم کے حواس اڑ گئے کیونکہ موت قياسهم، بما أباد الله نجيهم نے ان کے ایک منتخب آدمی کو لے لیا۔ موجود نہ می باشد۔ بعد از زمانی دراز ڈاکٹر آمد و هر چه توانست چاره کار نمود ولے : ، چون نیمه از شب سپری شد لیکھرام جام تلخ مرگ بنوشید - شنیده ام که وقت مرگ سراشک از دیده اش روان شد ۔ چه صدق وقوع خبر غیب بخاطر وے خطور کرد۔ قوم بر مرگ وی از بس سراسیمه و آشفته شدند