نجم الہدیٰ — Page 127
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۲۷ نجم الهدى فإنه أمر ينزل من حضرة العزة نشان ایک ایسی چیز ہیں جو خدا تعالی کی طرف ويحتاج ظهوره إلى تضرعات سے نازل ہوتے ہیں اور ان کا ظاہر ہونا تضرعات العبودية۔ فاحبس نفسك عندنا إلى عبودیت پر موقوف ہے۔ پس ایک برس تک حول، وهذا خير لك من سب میرے پاس توقف کر اور یہ تیرے لئے بہتر وصول لعل الله بُریک آیة و يهب ہے تا کہ خدا تعالیٰ تجھے نشان دکھائے اور یقین يقينا وسكينة و كذالك نرجو من اور سکینت بخشے اور اسی طرح ہم خدا تعالیٰ الله المنّان، فاصبر معنا إلى هذا سے امید رکھتے ہیں۔ پس اگر تو طالب ہے تو الآوان إن كنت من الطالبين فما اس وقت تک صبر کر ۔ مگر میری نصیحت نے اس نجعت نصیحتى فى جنانه، وما انتهى کے دل میں اثر نہ کیا اور بیہودہ گوئی سے باز نہ من هذره وهذيانه فقلت أيها الرجل | آيا۔ تب میں نے کہا کہ اے شخص! اگر تو صبر إن كنت لا تصبر وتعزم علی نہیں کر سکتا اور جانے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے الرحيل، ولا تختار ما أريناك من اور ہماری تجویز کو پسند نہیں کرتا تو تیرا (۲۳) السبيل، فلك أن تذهب و تنتظر اختیار ہے کہ تو چلا جا اور ہمارے الہام کی (۲۳) الإلهام، فذهب مغاضبًا وترك انتظار کرتارہ۔ تب وہ غصہ کی حالت میں چلا گیا ظہور آں موقوف بر تضرعات عبودیت سے باشد ۔ لہذا باید که یک سال تمام نز دمن مکث بکنی که خدا ترانشانے بنماید و سکییت و طمانیت بر تو فرود آید ۔ ہم چنین از خدا وند امید داریم اگر طالب صادق استی تا آن زمان شکیبائی بگزیں مگر اندر زمن در وے نگرفت و هرزه گفتن آغاز کرد نا چار گفتم که اگر نے تو انی که بشکیمی و آماده بر رفتن است و تجو یز مرا قبول نکنی اختیار داری برو و الهام مرامنتظر باش و چشم در راه بنشین - آخر او خشم آگین از پیش من برخاست - وازاں بعد ۳۴۶