نجم الہدیٰ — Page 116
روحانی خزائن جلد ۱۴ ١١٦ نجم الهدى وجرد آیه کالعضب الجراز ليفحم اور اپنے نشانوں کو شمشیر تیز کی طرح ننگا کیا تاہر كل من نهض للبراز وليتم حجته علی ایک شخص جو مقابلہ کیلئے کھڑا ہو اس کو لا جواب المنكرين۔ فإن ظن ظان أن ظهوری کرے اور منکروں پر اپنی حجت پوری کرے۔ عند سطوة النصرانية، وعند سیل اور اگر کوئی یہ گمان کرے کہ غلبہ نصرانیت کے الصليب، وعلى رأس المائة، ليس وقت میں میرا ظاہر ہونا اور صلیب کی طغیانی کے بدليل قاطع على أنني من الحضرة، وقت میں اور نیز صدی کے سر پر میرا آنا اس بات وكذالك إن زعم زاعم أن إملائي في پر قطعی دلیل نہیں کہ میں جناب الہی کی طرف سے اللسان العربية وما حوت معرفتى من ہوں اور اسی طرح اگر کوئی یہ گمان کرے کہ میرا اللطائف الأدبية، وكلّ ما أُرضعت عربی کتابوں کا لکھنا اور لطائف اور بیہ کا بیان کرنا تدى الأدب في هذه اللهجة، ليس بثابت أنها من آى الله ذي الجلال یہ خدا کا نشان نہیں ہو سکتا اور جائز ہے کہ یہ والعزة، بل يجوز أن يكون ثمرة اپنی پوشیدہ کوششوں کا ثمرہ ہو ۔ سو ایسا ظن المساعي المستورة المستترة، وأن کرنے والا خسوف کسوف میں کیا گمان کرے الأرض لا تخلو من كيد الكائدين گا۔ کیا یہ بھی انسانی مکر ہے یا خدا تعالیٰ راستی و نمود و نشانہائے خود را چوں شمشیر تیز برہنہ کرد تا هر که پا در مقابله اش بیفشرد زبانش را از کار بیندازد و بر منکرین اتمام حجت بنماید اگر کسے گمان کند که ظہور من در هنگام استیلائے صلیب و غلبہ نصرانیت و هم بروز من بر رأس صد دلیل قطعی بجهت آن نیست که من از قبل خداوند تعالیٰ شانہ می باشم و هم چنیں اگر کسے بر زبان آرد که تالیف کتب عربیه و بیان لطائف ادبیه که از دست من سر انجام پذیرفته نشانی از طرف خدا نمی باشد بلکه احتمال دارد کہ ایں ہمہ