نجم الہدیٰ — Page 113
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۱۳ نجم الهدى وسينال الكاذبين خزی و نصب من اور جو جھوٹے ہیں ان کو ذلت اور لازمی عذاب العذاب اللازب، فاتقوا الله إن كنتم پہنچ رہے گا۔ پس اگر ایمان رکھتے ہو تو خدا تعالیٰ مؤمنين۔ فما كان لهم أن يأتوا بمثل سے ڈرو۔ مگر ان لوگوں نے نہ تو میری کلام کی نظیر كلامي أو يتوبوا بعد إفحامی، وظهرت پیش کی اور نہ اپنے انکار سے باز آئے۔ اور ان على وجوههم سواد و قحول، وضمر کے منہ پر سیاہی اور خشکی اور لاغری اور گدا زش وذبول، وغشيهم حين و إحجام، ظاہر ہوگئی اور نامرادی اور پیچھے ہٹنا ان کے لاحق وجهلوا كل ما صلفوا ولم يبق لهم حال ہو گیا اور تمام لاف و گزاف کو بھول گئے اور كلام۔ وجاء نى حزبا منهم تائبین کلام کرنے کی جگہ نہ رہی اور بہتوں نے توبہ کی وكثير حق عليهم ما قال خاتم النبیین اور بہتوں پر قول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عليه الصلاة والتحـيـات من ربّ صادق آیا ۔ پھر اے سننے والو یہ بھی یا درکھو العالمين۔ ثم اعلموا يا حزب السامعین کہ میں نے اس نشان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم إن هذه آية استفدته من روحانية خير كى روحانیت سے لیا ہے اور یہ سب کچھ الــمــرسـلـيــن بإذن الله رب العالمين۔ خدا تعالیٰ کے حکم سے ہوا۔ اور بعض وقال السفهاء من الناس إنه دعوى نادانوں نے کہا کہ یہ دعویٰ قرآن کے و کا ذب زو د رسوائی اورنج لازم خواهد دید - اگر شمه از ایمان دارید از خدا بترسید ۔ ولے با ایں ہمہ نہ نظیرے در برابر کلام من آوردند و نه از انکار و اصرار دست باز داشتند - وسیاهی و لاغری و گدازش بر روئے شاں آشکار شد و بد دلی و پس نشستن لا حق حال شال گشت و همه لاف و گزاف از یاد رفت و جائے سخن نماند۔ آخر بسیار باز آمدند و بر بسیارے قول حضرت سید الانبیاء ( صلی اللہ علیہ وسلم ) صادق آمد - بر سامعین پوشیده نماند که من این نشان را از روحانیت حضرت رسول کریم (صلی اللہ علیہ وسلم ) بدست آورده ام - وایں ہمہ باذن اللہ پر روئے کار آمده - بعضی از نادانان گفتند این چنیں دعوئی مشابہت با دعوی قرآن دارد ۔ لہذا از حسن ادب