نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 550

نجم الہدیٰ — Page 109

روحانی خزائن جلد ۱۴ 1+9 نجم الهدى أبواب نوادر العربية واللطائف نوادر اور لطائف ادب کے دروازے میرے پر کھولے گئے یہاں تک کہ میں نے الأدبية، حتـــى أمـــليـــت فيهـا عربی میں کئی نو طرز رسالے اور بلاغت رسائل مبتكرة وكتبا محبّرة، ثم سے آراستہ کتابیں تالیف کیں ۔ پھر ــذا اور کوئی جز اس کا اس میں موجود ہے اور بعض جو بقية الحاشية من ذالك طر من والبعض لبعض اخر۔ بعض کے مقابل پر واقع ہیں اور دونوں کی ـاذا ۔ و بقیه حاشیه روحانیت اس کے وجود میں سرایت کرنے والی روحانيتهما سارية في وجوده۔ بل ہے بلکہ وہ روحانیت اس کے ہیزم کی آگ ہے انما هي نار وقوده ظهر تافيه على | طور البروز وهما بوجوده | اور دونوں اس میں بطور بروز ظاہر ہوئی ہیں اور اس کے وجود کا وہ بھید ہیں اور محمدی نشانوں میں سے ایک بلاغت تھی جیسا کہ قرآن شریف اس کی طرف اشارہ فرمارہا ہے ۔ پس مسیح موعود کوظلی طور پر وہ نشان عطا کئے گئے تا کہ اس کی طبیعت منه حظ للمسيح الموعود۔ ليدل اس کمال سے خالی نہ ہو کیونکہ محروم ہوناظل کی كالسر المرموز۔ وكان من الشيون المحمدية بلاغة الكلام۔ كما اشار | اليه اعجاز کلام الله العلام فاعطى على الظلية واتحاد الوجود۔ لئلا شان سے بعید ہے۔ پس مسیح موعود نے اس پاک يكون طبيعته فاقدة لهذا الكمال۔ درخت سے تازہ وتر میوہ پایا اور نبوت کی ظلیت فان الحرمان لايليق بشان الظلال۔ نے اس کو اپنے پانی میں ڈھانک لیا جیسا کہ امت فوجد غضا طريا من هذه الشجرة کے کاملوں کی شان ہے اور اسی طرح اس نے الطيبة۔ وغمره ماء ظلية النبوة كما حضرت عیسی علیہ السلام کے کمالات بطور ورثہ لطائف عربیت و نوادرش بر روئے من باز کردند ۔ چنانچہ رسالہ ہائے چند بطرز نو و پر از فصاحت در لسان تازی تالیف دادم بقیه حاشیه پاره از یس و بهره از ان در وے موجود پاره با پاره در برابر ایستاده و روحانیت ہر دو بوجودش در گرفته بلکہ آں روحانیت هیزم آتش اوست و آں ہر دو بروز آدر دے ظاہر وراز نهان وجود اومی باشند ۔ واز نشانہائے محمدی شان بلاغت هم بوده چنانچه اعجاز قرآن کریم اشاره به آن کرده است۔ پس