نجم الہدیٰ — Page 107
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۰۷ نجم الهدى وأقضى بينهم بالحق والمعدلة۔ إن مقدمات میری طرف رجوع کئے جائیں اور في هذا لآية لقوم متفكرين بل هي من میں ان کا فیصلہ کروں ۔ اور اس میں فکر کرنے والوں کیلئے نشان ہے بلکہ تدبر کرنے والوں أعظم آى الله عند حزب متدبّرين۔ کے نزدیک یہ سب نشانوں سے بڑا نشان ہے۔ و من آياتي أنه تعالى وهب لى اور میرے نشانوں میں سے ایک یہ ہے ملكة خارقة للعادة في اللسان كه خدا تعالیٰ نے عربی زبان میں ایک ملکہ العربية، ليكون آية عند أهل الفكر خارق عادت مجھے عطا فرمایا ہے تا کہ فکر کرنے (۲۰) والفطنة۔ والسبب فی ذالک والوں کے لئے وہ نشان ہو اور اس کا سبب یہ ۲۰ أني كنت لا أعـلـم الـعـربـيـة إلا ہے کہ میں بجز اندک اور حقیر شد بود کے جس طفيفا لا تُسمى العلمية، فطفق کو علمیت نہیں کہہ سکتے عربی نہیں جانتا تھا ۔ العلماء يقعضون ويكسرون عود پس علماء نے میرے علم کی لکڑی کو خم دینا اور خبری و مخبـرتـی، ویتزرون على توڑنا چاہا اور میرے علم کی عیب گیری اور نکتہ چینی علمی و معرفتی، ليُبرّون العامة شروع کی تاکہ عوام کو مجھ سے اور میرے سلسلہ منى ومن سلسلتي۔ وشهروا سے ، بیزار کر دیں اور اپنی طرف ۔ سے یہ شان در پیش من بشود و من قول فیصل درباره آنان امضا بکنم ۔ در ایں نشانے است جهت آنا نکہ اندیشہ کنند بلکہ نز د کسانی که فکر می کنند نشا نے بزرگتر ازین نیست۔ و از جمله نشانها این است که خداوند کریم مرا مہارتے فوق العاده در زبان عربی کرامت فرموده تا اہل فکر و زیر کی رانشا نے بزرگ باشد اصل راز آنکه من از لسان عرب جز از مایه اند کے کہ براں لفظ علم راست نمی آید در دست نداشتم ۔ وعلمائے ایس بلاد در دنبال آن بر آمدند که چوب علم مرا بخمانند و بشکنید وعلم مراعرضه خرده گیری ساختن گرفتند بقصد آنکه در دولہائے عامه مردم از من و از طریق من بیزاری پیدا کنند و بآواز دهل نعره با زدند