نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 550

نجم الہدیٰ — Page 104

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۰۴ نجم الهدى الألباب، أو يغنى عنه الندم بعد ما | زلت القدم، فيا حسرة عليهم۔ إنهم لا يتقون الله ويعلمون أنهم بمرآه وتربـئـهـم عيناه، يرون آى الله ثم لا وهوى فى وهدة الأخطاء ، فشق اور خطا کے گڑھے میں گر جاتا ہے تو یہ اس کو ایک عليه إلى آخر عمره أن يرجع إلى مشقت دکھائی دیتی ہے کہ پھر راہ راست کی طرف رجوع کرے اور عقل مندوں کی راہ الصواب وينتهج مهجة أولى اختیار کر لے یا اپنی لغزش پر کچھ ندامت پیدا ہو۔ پس ان پر افسوس کہ وہ اللہ تعالی سے نہیں ڈرتے اور جانتے ہیں کہ اس کی نظر کے نیچے ہیں اور خدا تعالی کی آنکھ ان کی دید بانی کر رہی ہے خدا تعالی کے نشان دیکھ کر پھر ایسے ہوتے ہیں ينظرون۔ ويُبلون كل عام ثم لا کہ گویا کچھ نہیں دیکھا اور ہر ایک برس آزمائے يتوبون، وقد تمت حجة الله عليهم جاتے ہیں اور پھر تو بہ نہیں کرتے اور خدا تعالیٰ کی ثم لا يخافون۔ وإني أرى أن أكتب حجت ان پر پوری ہو گئی اور وہ نہیں ڈرتے اور في رسالتي هذه بعض الآيات التي میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اپنے اس رسالہ أظهرها الله لإزالة الشبهات، لعل میں بعض وہ نشان لکھوں جن کو خدا تعالی نے الله ينفع بها بعض الصالحین شبہات کے دور کرنے کے لئے ظاہر فرمایا والصالحات من المؤمنين۔ ہے تا شاید اس سے اہل ایمان نفع اٹھاویں ۔ ہرگاہ از اناں یکے را خطائے سر برزند و در مغاک خطا بسر در افتد و باز بر او سخت دشوار می گردد که میل براہ راست بیار د یا پئے خردمندان را بگیرد یا اقلا بر لغزش خود کف پشیمانی بمالد ۔ وائے بر انها که باک از خدا ندارند و نیک میدانند که او می بیند و دیده اش دید بانی انها می کند ۔ نشانہائے خدا را می بینند و باز چناں وا نمایند که چیزے ندیده اند - و ہر سال ابتلائے برسرا نہا وارد آید و بازنمی آیند ۔ حجت خدا بر انها تمام شد ولے نمی ترسند ۔ ومن اکنوں قرین مصلحت می بینم کہ دریں رسالہ بعض نشا نہائے خود را ترقیم بکنم - شاید بعض طالبان حق را نفع بخشد -