نجم الہدیٰ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 550

نجم الہدیٰ — Page 103

روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۰۳ نجم الهدى واهل القدوس القدير، وخالف عبدا جو حق پر اور اہل اللہ ہیں اور اس بندہ کی مخالفت اختیار کرتا ہے جو خدا سے تائید یافتہ ہے ۔ پس اس يد من الرب النصير، فمثله كمثل کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک شخص ایک بیشہ میں رجل ولج غابة ليصطاد قسورة، وما اس غرض سے داخل ہو کہ تا ایک شیر کو شکار کرے أعد له عدة، وإن صيد الأسود ولو حالانکہ شکار کرنے کے لئے کوئی طیاری اس نے بالجنود أمر عسیر، فکیف اصطیاد نہیں کی اور نہ کوئی ایسا ساز وسامان اس کے پاس آساد الله فإن لهم شأن كبير ، ہے اور شیروں کا شکار کرنا مشکل ہے اگر چہ لشکروں کے ساتھ ہو اور خدا کے شیر کیونکر شکار کئے جائیں لا يباريهم إلا شقى أو ضرير۔ ولا يفترى على الله إلا أشقى الناس، ولا ان کی تو بڑی شان ہے اور کوئی ان کے مقابل پر بجز بد بخت یا اندھے کے نہیں آتا اور خدا پر وہ افترا يُكذب الصديق إلا أخ الخنّاس ، وقد باندھتا ہے جو بد بخت ترین خلائق ہو اور راستباز کی ظهرت مني الآيات، وقامت وہ تکذیب کرتا ہے جو شیطان کا بھائی ہو اور بہ تحقیق الشهادات، ولكني أرى أكثر علماء مجھ سے نشان ظاہر ہوئے ہیں اور گواہیاں قائم ہوئی ہیں مگر میں اس ملک کے اکثر مولویوں کو هذه الديار قد كبر عليهم الإقرار دیکھتا ہوں کہ انکار کے بعد اقرار کرنا ان پر بعد الإنكار، وقد جرت سنتهم أن بھاری ہو گیا ہے اور یہ ان کا طریق ہے کہ جب أحدا منهم إذا غلط فى الإفتاء کوئی ان میں سے ایک مرتبہ غلطی کر بیٹھتا ہے چه آنکه با اهل حق و مردان خدا پنجه کند و با یاوری یافته پروردگار پیکار ورزد چون شخص می باشد که برائے نخچیر زدن شیر در بیشه رود حال آنکه پیچ ساز و برگے برائے مقابلہ شیراں مہیا نکرده و نه اسلحه جنگ با خود داشته و هرگاه که استعدادے ہم جہت صید شیر مهیا نکرده است ۔ پس چگونه جرات میکند و صید شیران بیشه با سپاه و لشکر ہم کاری دشوار است ۔ پس شیران خدا را که شانے شگرف میدارند چگونه افگندن شان آسان باشد و هیچ کس بجز سیاه بختی نمی پسندد که بمقابل این چنیں شیران بایستد و دروغ بر خدا بستن را جز بدترین مردم هیچ کس روانمی دارد و غیر از برادر اهر من تکذیب راستان نمی کند هر آئینه از من نشانها صادر شده و گواهیها بروئے کار آمده اما بسیاری از مولویان این بلا داند که اقرار بعد از انکار بر انها خیلی گران است و شیوه شان آنکه