نجم الہدیٰ — Page 102
روحانی خزائن جلد ۱۴ ۱۰۲ نجم الهدى عراه من الشبهات، فهـا أنـا قـائـم دور کرے۔ سو میں اس کی غم خواری کے لمواساته كالإخوان، والبي دعوته لئے بھائیوں کی طرح کھڑا ہوں ۔ اور میں اس کی دعوت کو اس طرح قبول کرتا ہوں جیسا کہ ایک تلبية خائف على ضجيج العطشان ص پیاسے کی فریاد سے ڈر کر جلد تر اس کو جواب وسأروى غلته بزلال البرهان وأصفى دیتا ہے اور میں عنقریب دلیل کے آب زلال البيان۔ وأما النصيحة التي هي منى سے اس کی پیاس کو بجھاؤں گا اور بیان کے مصفا بمقتضى المحبة وإخلاص الطوية، پانی کے ساتھ اس کو سیراب کروں گا ۔ مگر میری فهي أن لا ينهض أحمد على خلافى إلا طرف سے اخلاص دل کے ساتھ یہ فصیحت ہے کہ بصحة النية، والذى يُباريني طالبا کوئی شخص بجر صحت نیت کے اس کام کے لئے للنصوص والحجج والأدلة، أو مُصِرًّا کھڑا نہ ہو اور جو شخص میرے مقابلہ پر اس غرض سے آوے کہ تا مجھ سے نصوص اور دلائل طلب على طلب الآى والخوارق السماوية کرے یا آسمانی نشانوں کا مطالبہ کرے ۔ پس فعليه أن يرفق عند المسألة، ويُراعى | اس پر لازم ہے کہ نرمی کے ساتھ سوال کرے دقائق التقوى والهون والتؤدة، ولا اور تقویٰ اور آہستگی کے دقائق کی رعایت رکھے يخرج من الأدب وحـ ، وحسن ا المخاطبة۔ اور ادب اور حسن مخاطبت سے باہر نہ جائے کیونکہ فإنه من عارض أهل الحق جو ان لوگوں کا مقابلہ کرتا وہ ہے۔ اینک جهت غمگساریش چوں برادران ایستاده ام ۔ و با نگ ویرا چوں شخصے بگوش قبول می شنوم که تشنه جان بلب را دیده و فریادش شنیده بتمامتر زودی جانبش می رود چنیں من نیز ہم تشنه طلب حق را ز لال راستی میدهم و با آب صافی بیان سیرابش می کنم ولیکن از روئے اخلاص نصیحت می کنم که هیچ نفس را نمی باید که بغیر درستی نیست اقدام این امر بنماید و برابرمن بایستد تا درباره نصوص و دلائل مسئلت بکند یا نشان آسمانی را باز به بند بلکه لازم که برفق ولطف وصحت نیت بپرسد و آداب تقومی و تانی را نگهدارد و از حد ادب و گفتار نیکو بیرون نرود ۔